سموک بم سے متاثرہ چاروں بچے زندگی کی بازی ہارگئے۔


ایبٹ آباد:سموک بم سے متاثرہ چاروں بچے زندگی کی بازی ہارگئے۔لواحقین سراپا احتجاج۔ اس ضمن میں تھانہ نواں شہر کے ایس ایچ او غفور خان نے صحافیوں کو بتایاکہ نواں شہر کے نواحی علاقہ میرامندروچھ میں سیکورٹی فورسز کے جوانوں نے تربیت کی غرض سے گولہ و بارود استعمال کیا۔ تاہم واپسی پر ان سے ایک سموک بم موقع پر غلطی سے رہ گیا۔ ہفتہ کے روز نواں شہر کے ایک نجی اسکول کے چاربچے تیسری کلاس کے خیبرعلی ولد محمد وحید،تیمور ولد حنیف اور پانچویں کلاس کا عبداللہ ولد محمد زاہداوراس کا بھائی سیف اللہ ولد محمد زاہد جوکہ دوسری کلاس کا طالبعلم ہے۔ اسکول سے واپسی پر فائرنگ رینج سے گزرے۔ جہاں ان کو سموک بم پڑا ہوا ملا۔ چاروں بچے اس کیساتھ کھیلنے لگ گئے اور کھیلنے کے دوران سموک بم پھٹ گیا۔ جس کے نتیجے میں چاروں بچے بری طرح جھلس گئے۔ جنہیں مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ایوب ٹیچنگ ہسپتال پہنچایا۔ مقامی ذرائع کے مطابق سیف اللہ جوکہ بہت زیادہ جھلس گیاتھا۔ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں دم توڑ گیا۔

مقامی میڈیاکی خبروں کا سخت پاک فوج کے اعلیٰ حکام نے سخت نوٹس لیتے ہوئے۔ جھلسنے والے تین بچوں کو فوری طور پر کھاریاں کے برن یونٹ میں منتقل کیا۔ جہاں اتوار کے روز خیبر علی جبکہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب سیف اللہ کا بھائی عبداللہ اورتیمورولدحنیف بھی موت کے منہ میں چلے گئے۔جاں بحق ہونے والے بچوں کی نمازجنازہ ٹاؤن شپ نواں شہر میں ادا کی گئی۔ جس میں مقامی لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر مقامی لوگوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے انصاف اور ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیاہے۔ مقامی لوگوں نے عسکری حکام سے متاثرہ خاندانوں کی مالی امداد کا بھی مطالبہ کیاہے۔


Comments

comments