جھنگی سے تین مہینوں کے دوران پانچوں نوجوان لاپتہ ہوگیا۔


ایبٹ آباد:جھنگی سے تین مہینوں کے دوران پانچوں نوجوان لاپتہ ہوگیا۔اس ضمن میں مقامی ذرائع نے صحافیوں کو بتایاکہ جھنگی میں مبینہ کارروائی کے دوران ستمبر2017 ء میں محمد افضل ولدسرور خان نامی نوجوان کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل گیا۔ بعدازاں محمد افضل کی گرفتاری کے تیسرے دن ایک مرتبہ پھر جھنگی میں ہی کارروائی کرتے ہوئے محمد ہاشم ولد محمد اکرم سکنہ جھنگی سیّداں اور بعدازاں ذیشان شاہ ولد منظور حسین شاہ سکنہ لمبی ڈھیری کو بھی گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کرگیا۔ بعدازاں چارہفتوں کے بعد سپاہ صحابہؓ کے سابق صوبائی صدر حاجی غلام مصطفی کا بیٹا عمرعلی بھی ہری پور سے لاپتہ ہوگیا۔

ABBOTTABAD: 01Nov2017 – File Photos of Zeeshan Shah, Afzal & Hashim residents of Jhangi, Missing from Last Three Months.

دس فروری 2018ء لمبی ڈھیری کارہائشی شہزاد ولد قمرزمان گھر سے بنک گیا۔ جہاں سے اس نے تین لاکھ کی رقم نکلوائی اور پھر وہ گھر نہ پہنچ سکا۔ لاپتہ ہونیوالے شہزاد کے چچا محمد آفتاب نے تھانہ میرپور میں گمشدگی کی رپورٹ درج کرادی ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق لاپتہ ہونیوالے نوجوان محنت مزدوری کرکے اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ پالتے ہیں۔ ذیشان شاہ جس نے حال ہی میں گورنمنٹ کامرس کالج سے ایم کام کی ڈگری امتیازی نمبروں کیساتھ حاصل کی۔ لیکن ملازمت نہ ملنے کی وجہ سے وہ پلمبرنگ کا کام کررہاتھا۔ جبکہ گرفتار ہونیوالا محمد ہاشم چن پلازہ میں کاسمیٹکس کی دوکان چلاتاہے۔ لاپتہ ہونیوالے نوجوانوں کے والدین نے حکام سے ان کی جلد از جلد رہائی کا مطالبہ کیاہے۔


Comments

comments