الیکشن سے دستبرداری کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔اڑھائی سالوں میں مری روڈ کا نہ بننا سوالیہ نشان ہے۔ مسلم لیگ(ن) کے دور میں ہمیشہ ہزارہ میں ترقی ہوئی۔ وائس آف ہزارہ ڈاٹ کام پر آنیوالی خبروں اور ویڈیو کلپس کو میں باقاعدگی سے دیکھتاہوں: عنایت اللہ خان جدون۔


ایبٹ آباد: سابق رکن خیبرپختونخواہ اسمبلی عنایت اللہ خان جدون نے کہاہے کہ الیکشن سے دستبرداری کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔اڑھائی سالوں میں مری روڈ کا نہ بننا سوالیہ نشان ہے۔ مسلم لیگ(ن) کے دور میں ہمیشہ ہزارہ میں ترقی ہوئی۔ سیاست پروقار طریقے سے ہی اچھی لگتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صحافیوں سے بات چیت کے دوران کیا۔ عنایت اللہ خان جدون نے کہاکہ ایبٹ آباد کا مری روڈ اڑھائی سالوں سے نہیں بن رہاہے ۔ کبھی بجلی کے کھمبوں کا بہانہ بنایاجاتاہے۔ کبھی گیس کی لائنوں کا اور کبھی ٹیلیفون کی تاروں کا۔ اصل بات یہ ہے کہ مری روڈ کی توسیعی منصوبے سے قبل کسی نے بجلی کے پول نصب کرنے والی جگہوں کا پلان ہی نہیں بنایا۔ واپڈا کے اہلکار بجلی کے پول نکال تو دیتے ہیں۔ لیکن وہ پول کو کہاں پر نصب کریں گے۔ اس کی منصوبہ بندی کسی نے نہیں کی۔ یہ لوگ بتائیں کہ مری روڈ کے توسیعی منصوبے میں انہوں نے بجلی کے پولوں کی کہاں پر جگہ رکھی ہوئی ہے؟ مری روڈ پر جونالے بنائے جارہے ہیں وہ سڑک سے اونچے ہیں۔ جب بارش ہوگی تو سڑک سے اونچے نالے میں پانی کیسے داخل ہوگا؟ نالوں کو اونچا کرنے کی ضرورت کیاتھی؟ سڑک کی توسیع کیلئے آنیوالے کروڑوں روپے کے فنڈز کو اربوں میں لے جانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ یہاں پر صرف ایک پل بنایاگیا۔ جبکہ کالا پل کی سائیڈوں پر کنکریٹ ڈال کر اسے کشادہ کیاگیا۔ 

یوسف ایوب خان نے ایبٹ آباد بائی پاس کا منصوبہ ہری پور منتقل کروالیا۔ گیارہ کروڑ والی جگہ پر ڈیڑھ ارب روپے لگایاجارہاہے۔ میرا سوال ہے کہ اتنی بڑی رقم کہاں پر لگائی جارہی ہے؟ ٹیلیفون، گیس اور پانی کی لائنوں کی منتقلی کیلئے مری روڈ کے اطراف میں کوئی جگہ ہی نہیں چھوڑی گئی ہے؟ تو ان کو منتقل کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔الیکشن میں حصہ لینے یانہ لینے کے حوالے سے عنایت اللہ خان جدون کا کہناتھا الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ میں اکیلا نہیں کرسکتا۔ میراجنبہ، گروپ اور پارٹی الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کریگی۔ میں جو بھی فیصلہ کرونگا وہ اپنے لوگوں اورپارٹی کی مشاورت کیساتھ کرونگا۔ مجھے نہیں لگتا کہ اتنی جلدی الیکشن ہوں۔ میری زندگی میں اس قسم کے معاملات کئی مرتبہ ہوچکے ہیں۔ ابھی کسی کو معلوم نہیں کہ ملک میں حقیقی جمہوریت ہوگی یا ٹیکنو کریٹ کی حکومت بنے گی۔ہزارہ موٹروے ستائیس دسمبر کو ٹریفک کیلئے کھول دیاجائیگا۔میں نے اپنے پانچ سالہ دور میں حلقہ کے لوگوں کی بھرپور خدمت کی۔ 

اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا کرم ہے کہ میں نے حکومت کا ایک پیسہ بھی نہیں کھایا۔ میرے والد مرحوم کا بھی یہی طریقہ ساری زندگی رہاکہ انہوں نے اپنی جیب سے خرچ کرکے سیاست کی۔ مشتاق غنی کے پاس دو دو وزارتیں رہیں ۔ اور پانچ سالوں میں دو دو وزارتیں رکھنے کے باوجود انہوں نے کون سے تیر مارے ہیں؟ ایبٹ آباد کیلئے کوئی کمال نہیں کیا اور نہ ہی ایبٹ آباد شہر میں کوئی قیامت آئی ہے۔ میں نے ایبٹ آباد کیلئے گریوٹی فلو سکیم کا میگا پروجیکٹ لایا۔ میں سونے کی اینٹیں لوگوں کے گھروں میں تقسیم نہیں کرسکتاتھا۔ میرے دور میں ایبٹ آباد شہر میں پانی کی قلت کا بہت بڑا مسئلہ تھا۔ جس کو حل کرنے کیلئے میں نے ساڑھے چارارب روپے کاگریوٹی فلوسکیم کا منصوبہ حاصل کیا۔ جس شخص نے گریوٹی فلو سکیم کا منصوبہ تباہ کیا۔ اسے کوئی پوچھتا تک نہیں ہے۔

عنایت اللہ خان جدون نے کہاکہ آپ تاریخ اٹھاکردیکھ لیں ہزارہ میں جب بھی کوئی ترقی ہوئی یا میگاپروجیکٹ صرف مسلم لیگ(ن) کے دور میں ہی ہوئے ہیں۔ہزارہ میں سڑکوں، انفراسٹرکچر کی جتنی بھی ترقی ہوئی ہے ۔ وہ صرف پاکستان مسلم لیگ(ن) کے پچھلے دور میں ہوئی ہے۔ ہزارہ کے لوگ آج بھی یہی سڑکیں استعمال کررہے ہیں۔ آج کل کے نوجوانوں کو یہ معلوم نہیں ہے کہ پہلے زمانے میں ناران پہنچنے میں دو دن لگتے تھے اور آج کل چند گھنٹوں میں ناران پہنچ جاتے ہیں۔ پہلے زمانے میں نتھیاگلی جانے کیلئے بھی لوگ ہفتوں سوچتے تھے۔ اور آج کل صرف ڈیڑھ گھنٹے میں نتھیاگلی پہنچا جاسکتاہے۔یہ چیزیں سوچنے کی ہیں۔

عنایت اللہ خان جدون نے کہاکہ وائس آف ہزارہ ڈاٹ کام پر آنیوالی خبروں اور ویڈیو کلپس کو میں باقاعدگی سے دیکھتاہوں۔ وائس آف ہزارہ ڈاٹ کام بلاشبہ موبائل اور انٹرنیٹ کے ہزاروں صارفین کو بروقت مقامی خبریں پہنچارہاہے۔میرافیس بک آفیشل پیج مینج نہیں ہورہاتھا۔ جس کی وجہ سے اسے عارضی طور پر بند کیاہے۔


Comments

comments