ایبٹ آبادپولیس نے قتل کے مفرور ملزم کو اسلام آبادایئرپورٹ سے دھرلیا۔ 


ایبٹ آباد:کینٹ پولیس نے قتل کے مفرور ملزم کو اسلام آبادایئرپورٹ سے دھرلیا۔ اس ضمن میں تھانہ کینٹ کے ایس ایچ او کیڈٹ حفیظ نے صحافیوں کو بتایاکہ بانڈہ پھگواڑیاں کے رہائشی ذیشان عرف شانی ولد بشیر کا کراچی میں شوکت علی ولد صاحب علی نامی شخص کیساتھ مشترکہ کاروبار تھا۔ ذیشان عرف شانی نے شوکت علی سے آٹھ لاکھ کی رقم ادھار لے رکھی تھی اور واپس کرنے کیلئے تیار نہیں تھا۔

سال 2014ء میں ذیشان عرف شانی نے شوکت علی کو کراچی سے پیسوں کی ادائیگی کیلئے ایبٹ آباد بلایا اور پھر بائیس اپریل2014ء کی رات شوکت علی کو شملہ پہاڑی کے قریب واقع خوشحال چوک پی ٹی سی ایل گیسٹ ہاؤس بانڈہ بٹنگ کے قریب لے جاکر اندھا دھند فائرنگ کرکے قتل کردیا اور لاش چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ شوکت علی کی لاش ساری رات سڑک پر پڑی رہی۔ صبح کے وقت مقامی لوگوں نے لاش دیکھ کر تھانہ سٹی کو اطلاع دی۔پولیس اہلکار جب موقع پر پہنچے تو مقتول کی جیب سے ساڑھے آٹھ سو روپے کی رقم، ایک گھڑی اور ٹوپی برآمد ہوئی۔ جبکہ موقع سے پولیس نے فائر شدہ گولیاں اور ایک زندہ گولی بھی برآمد کی گئی۔ بعدازاں تفتیش کے دوران مقتول کی شناخت شوکت علی کے نام سے ہوئی۔ شوکت علی کے ورثاء نے ذیشان عرف شانی اور اس کے بھائی پر دعویداری کردی۔ ذیشان عرف شانی اس کیس میں تین سال تک مفرور رہا۔ اور ساتھ میں مقتول کی بوڑھی والدہ شہزادی بی بی کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتارہا۔

ایس ایچ او کینٹ کے مطابق ہمیں اطلاع ملی کہ ذیشان عرف شانی بیرون ملک جارہاہے۔ جس پر حساس اداروں کو آگاہ کیاگیا۔ حساس اداروں کے تعاون سے ذیشان عرف شانی کو اسلام آباد ایئرپورٹ سے گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرکے تین روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیاگیاہے۔ پولیس ملزم سے تفتیش کررہی ہے۔

ذیشان عرف شانی ہم سب کو قتل کرنے کی دھمکیاں دے رہاہے: والدہ مقتول شوکت علی۔

ایبٹ آباد:مقتول شوکت علی کی بوڑھی والدہ شہزادی بی بی نے کہاہے کہ ظالموں نے میرے جوان بیٹے کو قتل کیا۔ اور ذیشان عرف شانی ہم سب کو قتل کرنے کی دھمکیاں دے رہاہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان اور پولیس حکام انصاف فراہم کریں۔ تھانہ کینٹ میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران مقتول شوکت علی کی والدہ کا کہناتھاکہ اس ظالم نے میرے جواں سالہ بیٹے کو قتل کرکے پھینک دیا اور خود فرار ہوگیا۔ تین سالوں کے بعد پولیس نے اسے گرفتار کیاہے تو اب یہ مجھے اور میرے پورے خاندان کو قتل کرنے کی دھمکیاں دے رہاہے۔ میری چیف جسٹس آف پاکستان اور انسپکٹرجنرل خیبرپختونخواہ پولیس سے اپیل ہے کہ ذیشان عرف شانی کو سرعام پھانسی لگائی جائے اور مجھے اور میرے خاندان کو تحفظ اور انصاف فراہم کیاجائے۔


Comments

comments