رفاقت خان کا قاتل سرعام دندنانے لگا۔ ورثاء کودھمکیاں۔


ایبٹ آباد: ایبٹ آباد پولیس حویلیاں بازار میں سرعام قتل کئے جانیوالے رفاقت خان کے قاتل کو گرفتار کرنے میں ناکام۔ لواحقین کو بھی دھمکیاں ملنے لگیں۔ مقتول کے بھائی نے آرمی چیف سے انصاف کی اپیل کردی۔اس ضمن میں تحصیل حویلیاں کے گاؤں جگیاں کے رہائشی سلیم خان ولد مربت خان نے صحافیوں کو بتایاکہ میرا شادی شدہ بھائی رفاقت خان حویلیاں کے ایک ہوٹل میں محنت مزدوری کرکے اپنے خاندان کی کفالت کرتاتھا۔ اکیس فروری 2018ء کو معمولی تنازعے پر خان افسر ولد شہداد سکنہ جگیاں اس کے ہوٹل کے قریب ایک دوکان پر گیا اور میرے بھائی رفاقت خان کو فون کرکے کہا کہ چائے لے آؤ۔ جب میرا بھائی چائے لیکر خان افسر کے پاس گیا تو خان افسر نے اندھادھند فائرنگ کرکے میرے بھائی کو قتل کردیا اور موقع سے فرار ہوگیا۔ جس کی رپورٹ تھانہ حویلیاں میں علت نمبر 213 کے تحت درج کروائی گئی۔ تھانہ حویلیاں کے سابق ایس ایچ او ہارون خان کو متعدد مرتبہ میرے بھائی کے قتل خان افسر کے بارے میں بتایاگیا لیکن انہوں نے قاتل کی گرفتاری کیلئے کچھ نہیں کیا۔ ہارون خان کے تبادلے کے بعد کیڈٹ غفور تھانہ حویلیاں کے ایس ایچ او تعینات ہوئے اور نئے ایس ایچ او کو بھی کئی مرتبہ بتایا لیکن ایس ایچ او کیڈٹ غفور بھی حیلے بہانے کر رہاہے۔ میں ڈی پی او ایبٹ آباد کے پاس بھی گیا لیکن کسی نے میری نہیں سنی۔ سلیم خان نے مزید بتایاکہ میرے بھائی کا قتل خان افسر گاؤں میں رہائش پذیر ہے اور اپنے مال مویشیوں کی دیکھ بھال بھی کررہاہے۔ علاقے میں سرعام گھومتاہے۔ اورمیرے پورے خاندان کو قتل کرنے کی دھمکیاں بھی دے رہاہے۔ سلیم خان نے آرمی چیف، انسپکٹرجنرل خیبرپختونخواہ پولیس اور چیف جسٹس سے انصاف کا مطالبہ کیاہے۔


Comments

comments