زلزلے کے تیرہ سال بعد بھی ہزارہ میں بچے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور۔


ایبٹ آباد:زلزلے کے تیرہ سال بعد بھی ہزارہ میں بچے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور۔بکوٹ، بالاکوٹ، کاغان سرکل کے بچے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور۔ذرائع کے مطابق تیرہ سال قبل 8 اکتوبر2005ء کی صبح آٹھ بج کر باون منٹ پر آنے والے زلزلے کے بعد عالمی برادری نے ڈونر کانفرنس میں پاکستان کو 6.5 بلین ڈالرز کی امداد فراہم کی۔ جس کے بعد ایرا، پیرا کے اداروں کا قیام عمل میں لایا گیا۔ ان اداروں نے تعمیر نو کی بجائے غیر ملکی امداد کواپنی شاہ خرچیوں پر خرچ کرنا شروع کردیا۔ جبکہ حکومت پاکستان نے تعمیر نو کے عمل کو جون 2012ء تک مکمل کرنا تھا۔2013ء کے عام انتخابات سے قبل قائم ہونے سے قبل متاثرین زلزلہ کے فنڈز کے لئے ایرا کا الگ سے اکاؤنٹ موجود تھا جس میں اس وقت 80 ارب کی خطیر رقم موجود تھی۔ بعد ازاں اسی رقم سے 56 ارب روپے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شامل کرلئے گئے۔ جو کہ ابھی تک تعمیر نو کے کاموں کے لئے واپس نہیں کی گئی ۔ بکوٹ ،بالاکوٹ کاغان سرکل میں زلزلے کے دوران تباہ ہونے والے سرکاری سکولوں کی عمارتوں کو تیرہ سال گزرنے کے باوجود تعمیر نہیں کیا جا سکا ہے۔ اور بچے آج بھی کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔

BALAKOT: Oct07 – Students of Government Primary School in Kanshian area of Balakot attending a classes outside a destroyed Building. A large number of Schools destroyed in the District during 08 October 2005 Massive Earthquake. ONLINE PHOTO by Sultan Dogar

تعلیم اور صحت کے شعبہ میں GOP کے ذریعے 3893 عمارتیں بنانے کے لئے ایرا کو ہدف دیا گیا۔ مگر اب تک صرف 174 عمارتیں تعمیر ہو سکی ہیں۔ جن میں93 مظفر آباد، 35 پونچھ، 48 باغ جبکہ خیبر پختونخواہ کے اضلاع میں 2175 عمارتیں بنانا تھیں۔ جن میں سے صرف 317 عمارتیں تعمیر کی جا سکی ہیں۔ جن میں 190 ایبٹ آباد، 18 مانسہرہ، 48 بٹگرام، 33 کوہستان، 30 شانگلہ، دوسری جانب تقریباً 62 کروڑ روپے سالانہ تنخواہوں اور مراعات کی نذر ہو رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب تک اربوں روپے کی مراعات کیوں دی گئیں؟اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ ایرا کی کارکردگی اور رفتار کار کو دیکھتے ہوئے کوئی بھی ذی شعور آدمی سمجھ سکتا ہے کہ یہ ادارہ اپنی تنخواہوں اور مراعات کی خاطر تعمیر نو کے کاموں کو 2050ء تک لے جانا چاہتا ہے۔

BALAKOT: Oct07 – Students of Government Primary School in Kanshian area of Balakot attending a classes outside a destroyed Building. A large number of Schools destroyed in the District during 08 October 2005 Massive Earthquake. ONLINE PHOTO by Sultan Dogar


Comments

comments