ایبٹ آباد سمیت صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز کے خاتمے کا فیصلہ۔


ایبٹ آباد:صوبائی حکومت کا تعلیمی ایمر جنسی کا ایک اور کارنامہ ایبٹ آباد بورڈ سمیت تمام بورڈز کو پشاور منتقلی کی حکمت عملی تیار کر لی گئی ۔جبکہ موجودہ بورڈز کو سب آفس بنا دیا جائے گا ۔پلان کے مطابق امتحانی پرچے پشاور میں ترتیب دیے جائیں گے جبکہ چیکنگ بھی پشاور ہی کی ذمہ داری ہے مذکورہ فیصلہ سے تمام بورڈز کو پشاور بورڈ کے ماتحت کر دینے کی حکمت عملی وضع کر دی گئی ایبٹ آباد بورڈز نے قلیل عرصہ میں نہ صرف کروڑوں روپے کی عمارت ، کالونی بنائی بلکہ پشاور بورڈ سمیت ہزارہ یونیورسٹی اور اے این پی کی صوبائی حکومتیں بھی بورڈ سے قرضہ حاصل کر رکھا ہے جبکہ حالیہ دنوں میں اے پی ایس میں سپورٹس کمپلیکس کی تعمیر کیلئے بورڈ نے 30 کروڑ روپے فنڈ جاری کر دیا ہے جس پر عنقریب کام شروع ہو جائے گا بورڈ خاتمے سے کرپشن کی نئی تاریخ رقم ہونے اور وسیع پیمانے پر خرد برد کے پلان کو حتمی شکل دے دی گئی ۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے تعلیمی نظام کی بہتری کیلئے نئی حکمت عملی وضع کر دی ۔اس ضمن میں ایک ذمہ دار ذرائع نے انکشاف کرتے ہوئے کہاکہ تحریک انصاف کی تعلیمی ایمر جنسی نے تعلیمی نظام کی بہتری کیلئے نئی پالیسی کے مطابق صوبے بھر کے تعلیمی بورڈ کو یکجا کرنے کی پالیسی ترتیب دے دی گئی ہے ۔ذرائع نے کہا کہ پالیسی کے مطابق موجودہ بورڈز کو سب آفس کا درجہ دے دیا جائے گا جبکہ تمام امور پشاور میں طے کیے جائیں گے ۔جس میں امتحانی پرچوں کی تیاری سمیت ان کی چیکنگ بھی شامل ہے ۔ایبٹ آباد بورڈ میں حالیہ بھرتیوں میں زون فائیو کے بجائے پورے صوبے سے امیدواروں سے درخواستیں طلب کرنا اسی پلان کی کڑی ہے ۔

ذرائع نے واضع کیا کہ ایبٹ آباد ایک مالی لحاظ سے خود کفیل بورڈ ہے جس سے قلیل عرصہ میں نہ صرف اپنی ذاتی عمارت تیار کی بلکہ ملازمین کیلئے کالونیوں کی تعمیر بھی بورڈ کا انقلابی قدم ہے ذرائع نے کہا کہ سابقہ اے این پی حکومت نے ایبٹ آباد میں باچا خان ماڈل پبلک سکول کیلئے 1 کروڑ 39 لاکھ روپے قرضہ لیا گیا جو ہضم کر لیا گیا جبکہ ہزارہ یونیورسٹی نے بھی 1 کروڑ روپے بورڈ سے قرض لے رکھا ہے جبکہ اے پی ایس میں سپورٹس کمپلیکس کی تعمیر کیلئے 30 کروڑ کا فنڈ بھی جاری کر دیا ہے جس کا ایم او یو تیار ہے ذرائع نے دعویٰ کیا کہ پشاور بورڈ نے بھی ایبٹ آباد بورد کے کروڑوں روپے ادا کرتے ہوئے ۔


Comments

comments