اے ڈی لوکل گورنمنٹ کے دفتر میں بھاری رشوت کے عوض بھرتیاں۔


ایبٹ آباد:اختیارات کا ناجائز استعمال، کرپشن، بدعنوانی اور بھتہ خوری، اے ڈی لوکل گورنمنٹ نے عدالت عالیہ کے احکامات بھی نظرانداز کرتے ہوئے قوائد و ضوابط کی دھجیاں بکھیر دیں، اے ڈی دفتر لین دین کا گڑھ بن گیا، سابقہ تاریخوں میں بھرتیوں پر بھاری نذرانوں کی وصولی جاری، دفتر کا ایک اسسٹنٹ لین دین کا ذمہ دار قرار ، نوکریوں کی بولیاں لگنے لگیں، تعمیراتی منصوبوں میں کرپشن کا یہ حال ہے کہ دفتر کی کارپٹ تک ٹھیکیداروں سے وصول کی جانے لگی، ڈرائیور کی خالی نشست پر ایک امیدوار کے کاغذات جمع تھے جس پر محکمہ کے دلال نے پانچ لاکھ روپے طلب کئے امیدوار نے 80 ہزار تک دینے کا وعدہ کیا تاہم نرخ مناسب طے نہ ہونے پر قواعد کے برعکس ایک اور امیدوار کو بھاری نذرانوں پر بھاری کر لیا گیا جبکہ آرڈر بھی مارچ کی تاریخ کا جاری کر دیا گیا، محکمہ اینٹی کرپشن عوامی شکایات کے باوجود اے ڈی لوکل گورنمنٹ کی کرپشن کی پشت پناہی میں مصروف، متاثرہ افراد نے حصول انصاف کیلئے تحقیقاتی ایجنسیوں چیف جسٹس و دیگر سے اپیل کردی۔

ذرائع کے مطابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ کا دفتر کرپشن کی منڈی میں تبدیل ہو گیا، تعمیراتی منصوبوں، بھرتیوں، ٹرانسفر و دیگر سرکاری کاموں کے علیحدہ علیحدہ نرخ مقرر کر دےئے گئے جس کیلئے دفتر کا ایک خصوصی اہلکار راشد اسسٹنٹ دلالی کا کردار ادا کر رہا ہے ، اس ضمن میں ایک ذمہ دار ذرائع نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ لوکل گورنمنٹ آفس میں ڈرائیور کی خالی نشست پر ایک امیدوار محمد نعیم ولد اسلم کے کاغذات جمع تھے جس کیلئے محکمہ کے دلال نے مذکورہ امیدوار سے پانچ لاکھ روپے طلب کئے جس پر امیدوار نے 80 ہزار دینے کی حامی بھر لی لیکن معاملات طے نہ ہو سکے ، ذرائع نے کہا کہ محکمہ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سجاد حیدر نے ایک پارٹی سے مک مکا کرکے 29 مارچ کی سابقہ تاریخوں میں خضر بشیر ولد محمد بشیر سکنہ کیہال کو بھرتی کا حکم نامہ جاری کرتے ہوئے قواعد و ضوابط کی دھجیاں بکھیر دیں، ذرائع نے کہا کہ عدالت عالیہ نے واضح احکامات دے رکھے ہیں کہ سکیل 5 تک قرعہ اندازی کے تحت بھرتی کا پورا کیا جائے ، لیکن موصوف نے ملازمت کیلئے درخواست دہندہ کو چھوڑ کر باہر کے امیدوار سے ریٹ طے کرکے بھرتی کا عمل مکمل کیا جس کیلئے بنیادی قواعد جس میں مشتہری وغیرہ شامل ہیں کو سبوتاژ کر دیا گیا، ذرائع نے کہا کہ موصوف نے قبل ازیں ایک غیر معیاری کام کودفتر کیلئے کارپٹ کا تحفہ لے کر سب اچھا قرار دے دیا تھا جس میں سرکاری خزانے کو لاکھوں روپے نقصان پہنچا، ذرائع نے مزید کہا کہ محکمہ اینٹی کرپشن بھی اپنا حصہ وصولی کے بعد موصوف کی پشت پناہی شروع کر رکھی ہے اور محکمہ اینٹی کرپشن سرکاری اداروں کی کرپشن خاتمے کے بجائے اضافے کا باعث بننے لگا، متاثرہ افراد نے چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ ، محکمہ بلدیات کے اعلیٰ حکام سمیت تحقیقاتی ایجنسیوں سے مداخلت اور انکوائری کرکے داد رسی کا مطالبہ کردیا۔


Comments

comments