پی ٹی آئی کے آصف زبیرشیخ ،صوبائی وزیرمشتاق غنی کیخلاف نیامحاذبنانے میں سرگرم۔


ایبٹ آباد:الیکشن قریب آتے ہی آصف زبیرشیخ کوپانچ سال کے بعد کارکنوں کی یادآگئی۔ مشتاق غنی کیخلاف الیکشن کیلئے ناراض لوگوں کو جمع کرنا شروع کردیا۔ ذرائع کے مطابق سال 2013ء کے عام انتخابات میں حلقہ پی کے انتالیس سے الیکشن لڑنے کیلئے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے آصف زبیر شیخ کو ٹکٹ دیاگیاتھا۔ آصف زبیر شیخ جن کا ایبٹ آباد میں نہ تو کوئی جنبہ اور برادری ہے۔ موصوف کو 2013ء کے عام انتخابات میں عمران خان کی وجہ سے ایبٹ آباد بالخصوص کنٹونمنٹ کے لوگوں نے تقریباً بیس ہزار ووٹ دیئے۔ الیکشن ہارنے کے بعد آصف زبیر شیخ نے عوام سے منہ موڑے رکھا اور اپنی پانچ سال تک خاموشی کیساتھ گزار دیئے۔ گزشتہ سال اپریل2017ء میں آصف زبیر شیخ کے بیٹے نے سی ایم ایچ کے پاس دوبے گناہ افراد کو کچل کر مارڈالا۔ لیکن مرنے والے افراد کے لواحقین کئی ماہ تک دربدر کی ٹھوکریں کھاتے رہے۔ اور متاثرہ خاندانوں کے احتجاج اور پکار کو بھی موصوف نے خاطر میں نہیں لایا۔ بعد میں کئی جرگے بھی ہوئے۔ لیکن موصوف نے ہر جرگے میں جان چھڑانے کی کوشش کی۔

الیکشن کا موسم شروع ہوتے ہی آصف زبیر شیخ نے ایک مرتبہ پھر ایم پی اے بننے کے خواب دیکھنا شروع کردیئے ہیں۔ اور انہوں نے اپنی استطاعت کے مطابق سیاسی سرگرمیاں شروع کردی ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق آصف زبیر شیخ کی مثال اس ٹیلر ماسٹرکی سی ہے۔ جورمضان کا پورا مہینہ بے فکری سے گھوم پھر کرگزارتاہے اور پھر چاندرات کا اعلان ہوتے ہی کپڑوں کی سلائی شروع کردیتاہے۔ اور پھر عیدکے دن اس کے ہاتھ میں ماسوائے شرمندگی کے کچھ نہیں ہوتا۔

ذرائع کے مطابق آصف زبیر شیخ پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی وزیر ہائرایجوکیشن مشتاق غنی کے مدمقابل الیکشن لڑنے کی تیاریاں کررہے ہیں۔ پارٹی ٹکٹ نہ ملنے کی صورت میں انہوں نے اپنی حکمت عملی کے تحت ابھی سے کارروائیاں شروع کردی ہیں۔ آصف زبیر شیخ نے پی ٹی آئی کے ان تمام کارکنوں کو ورکر کنونشن کے نام پر اپنے اسکول میں جمع کیا۔ جوکہ پی ٹی آئی سے ناراض ہیں۔ اس ورکر کنونشن کی خاص بات یہ بھی تھی کہ اس میں پی ٹی آئی کے کسی بھی ایم پی اے ، ایم این اے، ضلع ناظم علی خان جدون، تحصیل ناظم اسحاق سلیمانی سمیت پی ٹی آئی کے کسی بلدیاتی نمائندوں اور دیرینہ کارکنوں نے شرکت تک نہیں کی۔ اس نئی حکمت عملی کے تحت آصف زبیر شیخ پی ٹی آئی کے ناراض کارکنوں کو الیکشن میں مشتاق غنی کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کریں گے۔ اگر وہ خود الیکشن نہ بھی جیت سکے تو ان کی کوشش ہوگی کہ مشتاق غنی کو بھی الیکشن میں کسی صورت جیتنے نہ دیاجائے۔


Comments

comments