اورنگزیب نلوٹھہ کی پی کے سینتیس میں دبنگ انٹری سے مخالفین پر لرزہ طاری ہوگیا۔


ایبٹ آباد:نئی حلقہ بندیاں، پی کے 37 میں مسلم لیگی ایم پی اے کی دبنگ انٹری، نو تشکیل شدہ انتخابی حلقہ میں سردار اورنگزیب نلوٹھہ کی انتخابی مہم شروع ہوتے ہی مخالف کیمپوں پر لرزہ طاری ہو گیا، تمام صف بندیاں، جنبے، برادریوں کا اتحاد تہس نہس ہو گیا، جبکہ رابطوں کا سلسلہ تیزی پکڑ گیا، حلقہ میں ترقیاتی کاموں کی کھن گرج، دو درجن سے زائد ایکویئر مشین پی کے 37 میں سرگرم، بلیک ٹاپ ، شنگل روڈ، دیواروں سمیت مختلف ترقیاتی کاموں کا آغاز، علاقے کے تقدیر بدلنے لگی، حکمران پی ٹی آئی سردار ادریس اور وقار نبی کے ناموں پر الجھ کر رہ گئی ، قومی اسمبلی میں دونوں بڑی جماعتیں امیدوار کی تلاش میں تاحال سرگرم۔

ذرائع کے مطابق مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیوں کے اعلان کے ساتھ ہی مسلم لیگ ن کے ضلعی صدر و پارلیمانی لیڈر KP اسمبلی سردار اورنگزیب نلوٹھہ کی حلقہ پی کے 37 میں دھواں دار انٹری نے مخالفین پر لرزہ طاری کر دیا، اس ضمن میں امیدوار ن لیگ نے گلیات کے متعدد علاقوں تاجوال، بیرن گلی، پھلکوٹ، نتھیا گلی، نگری بالا ، سربھنہ و دیگر علاقوں کا طوفانی دورہ، عوام نے سردار اورنگزیب نلوٹھہ پر گل پاشی کے نئے ریکارڈ قائم کر دےئے ، عوام نے موصوف کو اپنا مسیحا تسلیم کرتے ہوئے انتخابات میں کامیابی کیلئے ہوم ورک شروع کر دیا۔

علاقہ عمائدین کے ایک وفد نے میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سردار اورنگزیب نلوٹھہ کی آمد کے ساتھ ہی گلیات بھر میں ترقیاتی عمل کا لامتناعی سلسلہ شروع ہو گیا اور گلیات بھر کے مختلف علاقوں میں ہیوی مشینری جس میں ایکسوئیٹر ، بلڈوزر اور دیگر شامل ہیں پہنچا دی گئیں، جس کے تحت مختلف مقامات پر بلیک ٹاپ، شنگل روڈ سمیت دیواروں کی تعمیر کے منصوبے شروع کر دےئے گئے، عمائدین نے کہا کہ حلقہ کے موجودہ ایم پی اے کو علاقہ کی پانچ سال تک یاد تک نہ آئی اور سردار اورنگزیب کی آمد کے ساتھ ہی لگتا ہے کہ سردار ادریس کے ہاتھ قارون کا خزانہ لگ گیا جس سے تعمیر وترقی کا جام شدہ منصوبے دوبارہ شروع ہو گئے ، عمائدین نے کہا کہ نلوٹھہ کی آمد کے ساتھ ہی عوام نے ان کا والہانہ استقبال کرکے آئندہ انتخابات کیلئے راہ متعین کرلی، باالخصوص تاجوال اور بیرن گلی کے عوام نے نلوٹھہ کو بھرپور خوش آمدید کہہ کر موجودہ ایم پی اے سے اپنی نفرت کی بھڑاس نکال لی اور نلوٹھہ کو آمدہ انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیاب کرانے کا عندیہ دے دیا، یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ حکمران پی ٹی آئی ایبٹ آباد بھر باالخصوص پی کے 37 میں امیدوار کے چناؤ میں مخمصے کا شکار ہو چکی ہے اور قیادت سردار ادریس اور وقار نبی کے درمیان تاحال کسی قسم کا فیصلہ نہ ہو سکا جبکہ قومی اسمبلی کی نشست پر دونوں بڑی پارٹیاں امیدوار کون کا بورڈ سجائے مناسب شخصیت کی تلاش میں سرگرم ہیں۔


Comments

comments