ایبٹ آباد کے اراکین اسمبلی کا ایک اوراعزاز۔ تفصیلات لنک میں۔


ایبٹ آباد:متعدد بڑے بڑے منصوبے چھن جانے کے باوجودایبٹ آباد کے اراکین اسمبلی ایک مرتبہ پھر مصلحت کا شکار۔ہزارہ ڈویژن اور شمالی علاقہ جات کی واحد ایوب ٹیچنگ ہسپتال کے کینسر اور برن یونٹ کوبند کرنے کے بعد ہسپتال کے بورڈ آف گورنرز کی انو کھی منطق، 400 بستروں پر مشتمل نئے گائنی و پیڈزیونٹ کو بند کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ایوب ٹیچنگ ہسپتال کے بورڈ آف گورنرنے غریب اور نادار مریضوں سے صحت کی سہولیات چھین لی۔ گائنی اوپی ڈی وارڈ کو مکمل ختم کرنے کا نوٹفیکیشن جاری کر دیا، جس کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ گائنی وارڈ جس کوتین ماہ قبل شروع کیا گیا اور اس کی تعمیر پر پچاس کروڑ کی لاگت آئی تھی۔ ایسی صورتحال میں جہاں نئے وارڈ اور ہسپتال بنانے کی ضرورت ہے وہاں نااہل مافیا وارڈ وں کی تعداد 4 سے تین کرنے پر تلا ہوا ہے۔

ڈاکٹروں اورشہریوں نے اس فیصلے پر شدید احتجاج کیااور ڈیپارٹمنٹ کے ڈاکٹرز نے احتجاج کا عندیہ دے دیا جبکہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جبکہ گائنی ڈی وارڈ کے قیام سے قبل ایک بیڈ پر تین تین مریض تھے گائنی وارڈ کی پروفیسر ڈکٹر شیلا نور نے بات کرتے ہوئے کہا کہ 50 کروڑ سے زائد لاگت سے تعمیر اسپتال احسن ابدال سے کشمیر اور شمالی علاقہ جات کے گائنی کے مریضوں کو سہولیات دے رہا ہے۔ اس نئے گائنی پیڈزیونٹ کو بندکر لاکھوں لوگوں کیساتھ ظلم عظیم ہے۔ جس کیخلاف تمام ڈاکٹراحتجاج کرینگے۔ واضح رہے کہ ایبٹ آباد کے اراکین اسمبلی نے پچھلے کئی سالوں سے چپ کا روزہ رکھاہواہے۔ ایبٹ آباد بائی پاس، ماڈل اسکول ،ٹراما سنٹر سمیت بڑے بڑے منصوبے ایبٹ آباد سے یوسف ایوب خان نے ہری پور منتقل کرلئے۔ لیکن ایبٹ آباد کے اراکین اسمبلی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ اور اب نئے گائنی پیڈز یونٹ کو بھی بند کیاجارہاہے۔


Comments

comments