حلقہ پی کے 38کے نتائج مشکوک۔ سلیم شاہ کا ووٹوں کی دوبارہ گنتی کرانے کا اعلان۔


ایبٹ آباد:تین ہفتے کی انتخابی مہم میں چھبیس ہزار ووٹ۔ حلقہ پی کے 38کے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کرانے کا فیصلہ۔ اس ضمن میں حلقہ پی کے 38 میں پچھلے پانچ سالوں کے دوران اپنی جیب سے کروڑوں کی سڑکیں اور پانی کی سکیمیں دینے والے امیدوار سیّدسلیم شاہ کو الیکشن میں صرف 13468 ووٹ ملے ہیں۔ جبکہ حلقہ پی کے 38 کے تناول سرکل میں سیّدسلیم شاہ نے 90 پولنگ سٹیشنوں پر کامیابی حاصل کی۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے امیدوار ارشد اعوان کو دوجولائی کو پاکستان مسلم لیگ(ن) کا ٹکٹ جاری کیاگیا۔ اور ارشد اعوان جوکہ کبھی حلقہ میں گئے ہی نہیں اور نہ ہی انہیں حلقہ کی ویلج کونسلوں کے نام اور ایڈریس بھی معلوم نہیں ہیں۔ صرف تین ہفتوں کی انتخابی مہم کے بعد ارشد اعوان کو ملی بھگت سے 26437 جبکہ پی ٹی آئی کے امیدوار قلندر خان لودھی کو29474 ووٹوں سے برتری دلوادی گئی۔ قلندر لودھی جوکہ تناول سرکل کے نوے فیصد پولنگ سٹیشن ہارے ہیں۔ ان کی کامیابی بھی انتہائی مشکوک ہے۔

اس ضمن میں سیّدسلیم شاہ نے وائس آف ہزارہ کو بتایاکہ ہم حلقہ پی کے 38کے انتخابی نتائج کو کسی صورت تسلیم نہیں کرتے۔ ہمارے پاس تمام پولنگ سٹیشنوں کے نتائج موجود ہیں۔ اس لئے حلقہ پی کے 38 کے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کیلئے ریٹرننگ آفیسر سے رجوع کیاجائے گا۔جبکہ مسلم لیگی امیدوار حاجی مہابت اعوان اپنے دوصوبائی اسمبلی کے امیدوار وں سے بھی کم 54879ووٹ حاصل کرتاہے۔ جوکہ عملے کی ملی بھگت سے انتخابی نتائج تبدیل کرنے کا کھلم کھلا ثبوت ہے۔


Comments

comments