چیئر مین تعلیمی بورڈ ایبٹ آباد پروفیسر سجاد کو تیس ہزار کا ٹیکہ لگ گیا۔


ایبٹ آباد: نا معلوم کال چیئر مین نے بوکھلاہٹ میں بغیر تصدیق کیئے نہ صرف 30ہزار روپے بذریعہ اکاؤنٹ و ایزی پیسی منتقل کر دیئے بلکہ کمشنر ہزارہ کی آمد کیلئے تزئین و آرائش کی مد میں ہزاروں روپے ضائع کر دیئے ۔ایسے لوگوں کی عہدے پر صوبائی حکومت کی طرف سے تعیناتی ایک سوالیہ نشان بن گئی ؟

ذرائع سے معلوم ہو ا کہ پروفیسر سجاد خان چیئر مین تعلیمی بورڈ کو ایک نا معلوم کا ل وصول ہوئی کہ مورخہ 12/3/2018کو کمشنر ہزارہ واٹر فلٹریشن پلانٹ سکیم کے تحت دفتر کے احاطہ میں ایک عدد پلانٹ نصب کریں گے۔نا معلوم شخص نے 15ہزار بذریعہ اکاؤنٹ طلب کیے اور نا معلوم شخص نے اپنے آپ کمشنر ہزارہ کا PAظاہر کیا ، کمشنر ہزارہ کا نام سنتے ہی چیئر مین نے بوکھلاہٹ میں بغیر تصدیق کیلئے مطلوبہ رقم بذریعہ سیکرٹری و لیکچرر مردان یونیورسٹی ایڈمن آفیسر جمع کروا دی ۔ بعد ازاں مزید 15000روپے بذریعہ ایزی پیسہ طلب کیے جو کہ شناختی کارڈ نمبر 33303-4652406-9موبائل نمبر 0334-5950478پر ایزی پیسہ کر دیئے گئے ۔

مبینہ دورہ کے روز اسی نا معلوم شخص نے دورہ کمشنر ملتوی ہونے کی بھی اطلاع کی معاملہ کی چھان بین پر معلوم ہوا کہ کمشنر ہزارہ کا کوئی ایسی پروگرام نہ تھا اور نہ ہی انکے دفتر سے کسی شخص نے کا ل کی اس طرح کے احمقانہ اور قانون سے بالاتر کام اتنے بڑے عہدے پر ایک سوالیہ نشان ہی نہیں بلکہ اس بات کی دلیل بھی ہیں کہ وہ ایک نا اہل شخص بھی ہیں جو کسی بڑے عہدے کا نام لے کر اپنے اوسان خطا کر کے ہر کام کرنے سے دریغ نہیں کرتے اور حق دار بچوں کے حقوق کا تحفظ تو کسی صورت بھی ان سے توقع نہیں کیا جا سکتا ۔

بعدازاں بوجہ ندامت کمشنر ہزارہ کو دفترکی طرف سے ایک خط جاری ہوا کہ اس نا معلوم شخص کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے جس نے آپکے نام پر دھوکہ دہی کی ہے جو اس بات کی تصدیق ہے کہ واقعی 20گریڈ کے ایک افسر کو ایک عام شہری نے اسکی بیوقوفی اور نا اہلی کے سبب چونا لگا دیا ایسے شخص کی تعیناتی بطور چیئر مین صوبائی حکومت کیلئے ایک سوالیہ نشان ہے اور ایسے شخص کی اتنے بڑے عہدے پر تعیناتی یقیناًکسی بڑے نقصان کا سبب اور پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے بس ایک ہی الو کافی ہے برباد گلستان کرنے کو
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستان کیا ہو گا ؟


Comments

comments