دوسوکیمسٹ بدحالی کا شکار۔اے ٹی ایچ کی فارمیسی سالوں سے ایک ہی شخص کے حوالے۔


ایبٹ آباد: چھ سوافراد معاشی بدحالی کی راہ پر۔ ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں مزید چارفارمیسی شاپ کھولنے کا فیصلہ۔ مین فارمیسی پچھلے کئی سال سے ایک ہی پارٹی پاس۔ نہ ٹھیکہ نہ بولی۔ کرپٹ افسران فارمیسی مافیاکیساتھ مل گئے۔ اس ضمن میں ایوب ٹیچنگ ہسپتال کے باہر ادویات کے کاروبار سے منسلک افراد نے صحافیوں کو بتایاکہ ایوب ٹیچنگ ہسپتال پورے صوبے کا واحد ہسپتال ہے۔ جس کے اندر پچھلے اٹھارہ سالوں سے پرائیویٹ فارمیسی چل رہی ہے۔ جوکہ مخصوص گروہ کو نوازنے کیلئے ایک ہی آدمی کے پاس فارمیسی کا ٹھیکہ ہے۔ جبکہ پورے صوبے کی کسی بھی بڑی سرکاری ہسپتالوں میں کوئی پرائیویٹ فارمیسی نہیں ہے۔ حال ہی میں فارمیسی کا ٹھیکہ ایک مرتبہ پھر اٹھائیس لاکھ پچاس ہزار روپے کے کنٹریکٹ پر اسی شخص کو دوبارہ دے دیاگیاہے۔ جس کے پاس یہ ٹھیکہ پچھلے اٹھارہ سالوں سے ہے۔

جبکہ مزید ظلم کی بات یہ ہے کہ ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں مزید چار فارمیسی کھل رہی ہیں۔ جس کی وجہ سے ہسپتال کے باہر ادویات کے کاروبار سے منسلک دوسوسے زائد دوکاندار بیروزگار ہوجائینگے۔ ان دوسوافراد کے ساتھ ان کے خاندان کے دیگر چھ سوافراد کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ جائیں گے۔ مقامی ایم پی اے مشتاق غنی جوکہ خیبرپختونخواہ اسمبلی کے سپیکر بھی ہیں، انہوں نے اس سنگین مسئلے پر کوئی توجہ نہیں دی ہے۔ اور چھ سو افراد کے منہ سے روٹی کا نوالہ چھینا جارہاہے۔ ادویات کے کاروبار سے منسلک افراد نے صوبائی حکومت سے ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں تمام فارمیسی شاپ بند کرنے کا مطالبہ کیاہے۔ فارمیسٹوں کا کہناہے کہ اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو پھر تمام لوگ ہسپتال کے باہر شاہراہ ریشم پر احتجاجی دھرنا دینگے۔


Comments

comments