چیف الیکشن کمشنر کی جانبداری کھل کر سامنے آگئی۔


اسلام آباد:حلقہ بندیوں پر ضلع ایبٹ آباد کے عوامی نمائندگان کی طرف سے مجموعی طور پر 21 اعتراضات داخل کئے گئے جن کی سماعت 7 اپریل کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کی ان درخواستوں کی سماعت کے دوران خود چیف الیکشن کمشنر موجود نہ تھے کیونکہ ان کا آبادئی ضلع تھا جبکہ ہریپور و دیگر اضلاع کی سماعتوں کے دوران وہ خود بھی مود رہے اور تفصیل سے درخواست گزاروں کا موقف سنا ضلع ایبٹ آباد کے اپیل کندہ گان میں موجود ڈپٹی اسپیکر مرتضی جاوید عباسی اور سابق ڈپٹی اسپیکر سردار محمد یعقوب کے علاوہ صوبائی وزیر خوراک الحاج قلندر لودھی سابق ڈپٹی سپیکر کے بیٹے کرنل (ر) سردار شبیر بیرسٹر محمد جاوید عباسی کے ترجمان محمد جبرائیل عباسی و دیگر شامل تھے حلقہ بن دیوں پر اعتراضات کی سماعت کے دوران دلچسپ اور حیرت انگیز مناظر دیکھنے کو ملے۔

جہاں سالہا سال سے ایک دوسرے سے بچھڑے گلے ملے اور مخالفین کی اکثریت حلقہ بندیوں کی تبدیلی کے خلاف یکجا لگی اور اکثریت نے قومی اسمبلی کے دوران حلقوں کی بحالی اور صوبائی میں ہر حلقہ کی اصل شکل کے ساتھ دیگر علاقے لگا کر اابادی پوری کرنے کی استدعا کی گئی مگر ایک بزرگ سیاسی شخصیت کے صوبائی حلقوں پے اعتراضات نے تو تمام شرکاء کو ہلا کر رکھ دیا اور دوران سماعت ہی بھونچال برپا ہو گیا ان کا اپنے حلقے یعنی PK-37کے بارے میں موقف تھا کہ اس تبدیل شدہ حلقہ سے لگا کر پی کے 36 مکمل کیا جائے جبکہ پی کے 37کے ساتھ گللیات، حویلیاں، لورہ کو ملایا جائے پی کے 38 حویلیاں اربن کینٹ تناول، جھنگی، بانڈہ پیر خان، و سلہڈ کو بنایا جائے دہمتوڑ سمیت سابقہ پی کے 44 کے حلقہ کو پی کے 39 کا درجہ دیا جائے جو ان کی لوہر گلیات کے عوام کے ساتھ مسکراہٹوں کے تبادلے بھی ہوئے اور تیور بھی چڑھائے گئے یوں لگتا تھا کہ اصل الیکشن عوام کے میدان میں نہیں الیکشن کمیشن کے پاس ہے اکثریت نے عوامی مفادات و ضروریات جغرافیائی و علاقائی رسم و رواج کے بجائے ذاتی مفادات گروہی و جنبہ کی حمایت و مخالفت کو بنا کر اپنا اندر کا دل تبدیلی مانگ رہے تھے لوہر گلیات سے ووٹ حاصل نہ کرنے کا غصہ نکالنے والوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ اگر تبدیلی نہ ہوئی تو وہ کس منہ سے اس عوام کے پاس ووٹ مانگنے جائیں گے ایک دوسرے کو دھوکا دیا تو اس میں عام عوام کا کوئی قصور نہ تھا کہ انہیں اس کی سزا دی جا رہی ہے اہلیان ضلع ایبٹ آباد نے اس صورتحال کو ذاتی مفادات کی جنگ قرار دیا ہے


Comments

comments