ایوب ٹیچنگ ہسپتال کی کام چور اورکرپٹ مافیاکوایک اوربڑی کامیابی مل گئی۔


ایبٹ آباد:ایوب ٹیچنگ ہسپتال کی کام چور اورکرپٹ مافیا کامیاب۔ ہاسپٹل ڈائریکٹربریگیڈیئراجمل سے زبردستی استعفیٰ لے لیاگیا۔ ڈاکٹرخیال آفریدی نئے ڈائریکٹرتعینات۔ اس ضمن میں ذرائع نے صحافیوں کو بتایاکہ ایوب ٹیچنگ ہسپتال کو بورڈ آف گورنر کے زیر انتظام کرنے کے بعد جاوید پنی کو بی اوجی کا چیئرمین بنایاگیاتھا۔ جنہوں نے ہسپتال کو بہترانداز میں چلانے کیلئے گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ ایوب ٹیچنگ ہسپتال اور ہزارہ کے عوام کی بدقسمتی ہے کہ ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں سالوں سے ڈاکٹروں اور ملازمین کے روپ میں ایک کرپٹ اور کام چور مافیا سرگرم ہے۔ جس نے سابق چیف ایگزیکٹو نعیم شہزاد جیسے اعلیٰ پائے کے بیوروکریٹ کو بھی ہسپتال میں چند ماہ سے زیادہ ٹکنے نہیں دیا اور ان کو بھگا کردم لیا۔ جاوید پنی کی بحیثیت بی اوجی تعیناتی کے بعد کرپٹ اور کام چور مافیا نے ان کیخلاف بھی سازشوں کا بازار گرم کئے رکھا۔ اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ نے اس کرپٹ مافیا کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے جاوید پنی کو بھی عہدے سے ہٹا کر جنرل آصف کو بی او جی کا چیئرمین بنا دیا۔ ایبٹ آباد سے تعلق ہونے کی وجہ سے جنرل آصف بھی چارج سنبھالنے کے بعدکرپٹ اور کام چور مافیا کے نرغے میں آگئے۔

بریگیڈیئر(ر) اجمل جوکہ ایک انتہائی ایماندار اور فرض شناس آفیسر ہیں۔ جنہوں نے انتہائی مختصر وقت میں ہسپتال کی ایمرجنسی، گائنی پیڈز یونٹ، سی سی یو، آئی سی یو کے علاوہ دیگر شعبوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے ساتھ ساتھ ہسپتال کے نظام کو کمپیوٹرائزڈ کیا۔ اور ہسپتال میں کرپشن کو ختم کردیا۔ جس کی وجہ سے ہسپتال کے ڈاکٹروں کے علاوہ ملازمین بھی بریگیڈیئر(ر) اجمل سے سخت نالاں تھے۔ اور انہوں نے چیف جسٹس سپریم کورٹ کی آمد کے موقع پر بھی سازش کی۔ جس کی وجہ سے چیف جسٹس نے ہاسپٹل ڈائریکٹر بریگیڈیئر(ر) اجمل کی خوب کلاس لی۔ ذرائع کے مطابق بی اوجی کے ممبران نے مخصوص مافیا کے کہنے پر ہاسپٹل ڈائریکٹر بریگیڈیئر (ر) اجمل پر مستعفی ہونے کیلئے دباؤ ڈالا۔ جس کی وجہ سے بریگیڈیئر (ر) اجمل نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیاہے۔ جس کی وجہ سے ہسپتال ایک اچھے آفیسر سے محروم ہوگیاہے۔

دوسری جانب ایوب میڈیکل کالج کی ڈین پروفیسر ڈاکٹر عزیز النساء عباسی بھی آج کل کرپٹ مافیا کے نشانے پر ہیں۔ ان کے بارے میں بھی میڈیا میں منفی پروپیگنڈہ کیا جارہاہے۔ اور توقع ہے کہ کرپٹ مافیا بہت جلد دیگر ایماندار لوگوں کی طرح ایوب میڈیکل کالج کی ڈین کو بھی بھگا کر دم لیں۔ایبٹ آباد کے شہریوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ خدارا ہزارہ کے اس اکلوتے ہسپتال میں موجود کرپٹ مافیا کو نکالا جائے۔ آخر کب تک یہ مافیا ایماندار لوگوں کو اس ہسپتال سے بے عزت کرکے نکلواتی رہی گی۔ اگر یہی صورتحال رہی تو کوئی بھی عزت دار آدمی اس ہسپتال کا انتظام نہیں چلائے گا۔ آج تک اس کرپٹ اور کام چور مافیا کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اس مافیا کیخلاف ٹیکنکل بنیادوں پر کارروائی کرکے انہیں گھربھیجا جائے۔


Comments

comments