ہزارہ موٹروے پر وصول کیاجانیوالا ٹیکس ملازمین کی جیبوں میں جانے لگا۔


ایبٹ آباد:نیشنل ہائی ویز اٹھارٹی کی نا اہلی اور اس کے اہل کاروں کی ملی بھگت سے قومی خزانے کو سالانہ کروڑوں کا ٹیکہ۔ہزارہ موٹروے ٹول پلازوں کے ملازمین روزانہ ہزاروں روپے جیب میں ڈالنے لگے۔اس ضمن میں ذرائع نے صحافیوں کو بتایاکہ ہزارہ موٹروے کے کسی بھی ٹول پلازے حسن ابدال ، شاہ مقصود، حطار، ہری پور، کوٹ نجیب اللہ میں ٹول ٹیکس کی وصولی کا کمپیوٹرائزڈ نظام نہیں ہے۔ ہزارہ موٹروے پر داخلے کے وقت ایک کارڈ دیاجاتاہے۔ جب شہری حسن ابدال ، شاہ مقصود، حطار، ہری پور، کوٹ نجیب اللہ کے ٹول پلازوں سے نکلتے ہیں تو یہ کارڈ ٹول پلازے والے لے لیتے ہیں اور ساتھ میں تیس روپے ٹیکس بھی وصول کیا جاتاہے۔ اور وصول کئے جانیوالے تیس روپے کی کوئی رسید نہیں دی جاتی۔

شہریوں کی جانب سے این ایچ اے حکام کو بار بارشکایت کرنے کے باوجود کوئی ایکشن نہیں لیا جارہا۔ٹول پلازہ کے اہل کار پیسے لے لیتے ہیں مگر رسید نہیں دیتے۔ اس طرح یہ پیسہ ان کی اپنی جیب میں چلا جاتا ہے۔ جب شاہ مقصود ٹول پلازہ پر سپروائزر اس سے شکایت کی جاتی ہے تو شہریوں سے کہاجاتاہے کہ رسید اس لئے نہیں دیتے تاکہ دیر نہ لگے اور گاڑیوں کی لمبی قطار نہ بن جائے۔زیادہ تر گاڑیاں خصوصاً فلائینگ کوچ والے اسلام آباد، پشاور، چارسدہ، مردان، حویلیاں اور صوابی وغیرہ سے نارمل لائن سے کارڈ لیکر داخل ہوتے ہیں۔ مگر ہزارہ میں ٹول پلازہ والوں کو غلط ٹول پلازے سے داخلے کا بتاتے ہیں اور کم ٹول ٹیکس دے کر اور بغیر رسید کے نکل جاتے ہیں۔ حسن ابدال ، شاہ مقصود، حطار، ہری پور، کوٹ نجیب اللہ کے ٹول پلازوں کے اہلکار وصول کئے جانیوالے پیسوں کی رسید نہیں دیتے۔جوکہ سیدھی سیدھی کرپشن ہے۔ مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اگر کوئی شریف آدمی اعتراز اٹھائے تو ٹول پلازے کا عملہ اسے مارنے پیٹنے کی کوشش کرتا ہے۔ بندہ جان بچانے میں ہی خیر تصور کرتا ہے۔


Comments

comments