عدالت کاکینٹ پولیس کے خرم اور ناصر کیخلاف اقدام قتل کا مقدمہ درج کرنے کا حکم۔


ایبٹ آباد:ایڈیشنل سیشن جج نے نوجوان کو گولیاں مارنیوالے پولیس اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم جاری کردیا۔ اس ضمن میں شیخ البانڈی کے رہائشی فیضان عرف فضی ولد محمد حنیف نے صحافیوں کو بتایاکہ ایس ایچ او کینٹ کی سپیشل ٹیم کے اہلکار کانسٹیبل خرم نے مجھے کال کرکے چنارروڈ کے قریب واقع مزار کے پاس آصف کی دوکان پر بلایا۔جب میں وہاں پر پہنچاتو کانسٹیبل خرم اورکانسٹیبل ناصرسول کپڑوں میں ہلکے سبز رنگ کی ایکس ای کار میں سوار بیٹھے ہوئے تھے۔ جنہوں مجھے کار میں بٹھاکر پیسوں کا مطالبہ کیا۔ میرے انکار پر ان لوگوں نے مجھے مارنا شروع کردیا۔ میں نے پولیس اہلکاروں سے بھاگ کر جان بچانے کی کوشش کی تو پولیس اہلکار ناصر نے کلاشنکوف سے میرے اوپر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔ جس کے نتیجے میں میں گولی لگنے سے شدید زخمی ہوگیا۔ جبکہ پولیس اہلکار فائرنگ کے بعد موقع سے فرار ہوگئے۔ مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت مجھے ہسپتال پہنچایا۔ فیضان عرف فضی کی رپورٹ پر تھانہ کینٹ نے پولیس اہلکاروں کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی بلکہ برائے نام مقدمہ درج کرلیا۔

جس پر فیضان عرف فضی کے بھائی نے ایڈیشنل سیشن جج ایبٹ آباد کی عدالت میں بائیس اے کے تحت پولیس کانسٹیبل خرم اور ناصر کیخلاف مقدمہ کے اندراج کیلئے درخواست دائر کی۔ وکلاء کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیضان عرف فضی کو گولیاں مار کر زخمی کرنے کے جرم میں پولیس کانسٹیبل خرم اور ناصر کیخلاف ایف آئی آر درج کرکے گرفتار کرنے کا حکم جاری کردیا۔ ذرائع کے مطابق پولیس کی جانب سے مسعود تنولی ایڈوکیٹ اور مدعی کی جانب سے مروت خان ایڈوکیٹ نے کیس کی پیروی کی۔


Comments

comments