نئی حلقہ بندیاں: مسلم لیگ(ن) اور پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آگئے۔


ایبٹ آباد:نئی حلقہ بندیوں کے نتیجے میں ایبٹ آبادمیں بنے والے نئے حلقوں میں ڈرامائی سیاسی صوتحال پیدا ہوگئی ہے مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں ٹکٹوں کی تقسیم کے بعد ان اختلافات میں مذید شدت آئے گی اور ان اختلافات کے باعث دونوں جماعتوں کو آنیوالے انتخابات میں بہت بڑے پیمانے پر نقصان ہوگا اور ان کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا این اے 15 میں پی ٹی آئی کے منحرف رہنماء وسابق ضلع ناظم سردار شیر بہادر الیکشن میں حصہ لیں گے اگر انہیں ٹکٹ ملا یا نہ ملا اسی طرح این اے 16 سے پی ٹی آئی کے منحرف رہنماء وسابق نائب ضلعی ناظم شوکت تنولی بھی الیکشن میں حصہ لیں گے چائے انہیں پارٹی ٹکٹ ملے یا نہ ملے دونوں صورتوں میں اسی پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی کے پی کے سردار محمد ادریس بھی ٹکٹ ملنے یانہ ملنے دونوں کی صوتوں میں پی کے 37 سے الیکشن لڑیں گے ۔

اسی طرح پی کے 38 سے پی ٹی آئی رہنماء سجاد اکبر بھی ہر صورت میں الیکشن میں حصہ لیں گے جس کے پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈر پر واضح فرق پڑے گا اسی طرح ن لیگ میں بھی نئے حلقے بنے سے اختلافات پیدا ہو گئے ہیں حلقہ این اے 15اور حلقہ پی کے 36میں اس وقت نہایت دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی جب پہلے گزشتہ ہفتے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی نے عمائدین علاقہ، ممبرا ن ضلع و تحصیل کونسل کا ایک مشترکہ مشاورتی اجلاس بلایا، اور اعلامیہ جاری کروایا کہ ان کیلئے بہترین حلقہ این اے پندرہ ہی ہے کیونکہ نئی حلقہ بندی کے بعد ان کا 70فیصد علاقہ این اے پندرہ میں شامل ہو گیا، سردار مہتاب احمدخان صوبائی اسمبلی سے امیدوار لائیں قومی کی نشست پر مرتضیٰ جاوید ہی مقابلہ کرینگے، جبکہ جمعرات کیروز اسلام آباد میں بیرسٹر جاوید عباسی کی میزبانی میں عمائدین لورہ کا ایک اور مشاورتی اجلاس ہوا جس میں سردار مہتاب خان نے این اے پندرہ قومی اسمبلی کی نشست پر سے الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا اور ساتھ ہی بیرسٹر جاوید عباسی کو صوبائی اسمبلی کی نشست پر سے سامنے لانے کا عندیہ دیدیا۔

اس سے قبل عوامی حلقوں میں ن لیگ کی طرف سے جو پینل زیر بحث آرہا تھا اس میں قومی اسمبلی این اے پندرہ پر مرتضیٰ جاوید جبکہ صوبائی اسمبلی پر سردارمہتاب احمد خان کے کزن برادر سردا ر فرید خان کے امیدوار ہونے کی قیاس آرائیاں عام تھیں۔ تاہم اب دونوں اطرف سے دو مختلف سامنے آچکے ہیں، کارکنان بھی تذبذب کا شکار ہیں کہ کون سا پینل الیکشن میں حصہ لے گا۔ دوسری طرف صوبائی حلقہ پی کے 36جو کہ سابقہ پی کے 45تھا اس میں سردار فرید خان نیپانچ سالہ دور میں اپنا مقام بنایااور عوامی حلقوں سے مضبوط و مربوط عوامی رابطے استوار رکھے، اب کی بار سردار فرید کو ٹکٹ نہ ملنے کی خبروں سے نئی صورتحال پیدا یوگئی ہے۔ تاہم اب مسلم لیگ ن کی طرف دو پینل پہلا مرتضیٰ جاوید عباسی اور سردار فرید خان جبکہ دوسرا پینل سردار مہتاب اور بیرسٹر جاوید عباسی، اب یہ وقت بتائے گا کہ ن لیگی اعلیٰ قیادت کس کو ٹکٹ جاری کرتی ہے۔اسی طرح پی کے39 اور 38 میں ابھی تک ن لیگ کوئی موزوں امیدوار ہی نہیں مل رہا ہے اور ان دونوں حلقوں میں پارٹی میں پارٹی کارکنان میں بھی شیدید اختلافات پائے جا رہے ہیں جبکہ پی ٹی آئی میں بھی ایبٹ آباد کے چار صوبائی اسمبلی حلقوں اور دو قومی کے حلقوں این اے 15 اور 16 میں پارٹی قیادت اوراسکے کارکنان میں شدید اختلافات پائے جا رہے ہیں جو کسی بھی صورت میں ختم ہوتے ہوئے نظر نہیں آ رہے ہیں دن بدن ان میں مزید اضافہ ہو ریا ہے۔


Comments

comments