ایبٹ آباد میں 119ہری پور میں 109روپے کلوسی این جی کی فروخت۔


ایبٹ آباد:گیس کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے بھرپور ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے سی این جی مالکان نے گیس کی قیمتوں میں چالیس فیصد سے زائد اضافہ کر دیا ہے اور119روپے کلو گیس فروخت کر رہے ہیں جبکہ بعض سی این جی سٹیشن109روپے فروخت کر رہے ہیں جبکہ ضلع ہریپور میں بیشتر سی این جی سٹیشن 109روپے گیس فروخت کر رہے ہیں سی این جی مالکان ایسوسی ایشن نے میڈیا کو بتایا کہ اب حکومت نے سی این جی سیکٹر کو خود مختاری دے دی ہے اور اوپن مارکیٹ میں جس ریٹ سے چاہیں گیس فروخت کر سکتے ہیں ہمارا حکومت اور اوگرا سے کوئی تعلق نہیں ہے ہم وہی ریٹ وصول کریں گے جو ہماری مرضی ہو گی سی این جی ایسوسی ایشن اور مالکان نے ایبٹ آباد میں ٹرانسپوٹروں اور عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر دیا ہے اوگرا کی جانب سے سوئی گیس کی قیمت میں اضافے کا حتمی نوٹیفکیشن ابھی تک جاری نہیں ہوا مگر اس کے باوجود ایبٹ آباد کے نناوے فیصد مالکان119روپے فی کلو گیس فروخت کر رہے ہیں ۔

ٹرانسپورٹروں نے اس اضافے پر شدید احتجاج کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سی این جی مالکان کے اس من مانے اضافے کا نوٹس لیں کیوں کہ عوام مسافر زائد کرایوں کو مسترد کرتے ہیں اور آئے روز لڑائی جھگرے ہو رہے ہیں ذرائع کے مطابق حکومت نے کے پی کے میں فی کلو سی این جی کی قیمت109روپے مقر رکی ہے مگر ایبٹ آباد کے سی این جی مالکان109روپے کے بجائے119روپے میں گیس فروخت کر رہے ہیں اور ان سے کوئی باز پرس نہیں کی جا رہی ہے سی این جی مالکان نے ٹرانسپورٹروں کو اور ٹرانسپورٹروں نے مسافروں کو لوٹنا شروع کر رکھا ہے اور کرایوں میں بے تحاشہ اضافے نے عوام کی چینخیں نکال دی ہیں، لوکل روٹس پر چلنے والی گاڑیوں، سکولوں کے لے جانے والے بچوں کی گاڑیوں کے کرایون میں پچاس فیصد اضافہ کر دیا ہے جو کہ عام آدمی کے بس میں نہیں رہا اہلیان ایبٹ آباد نے وزیر اعظم پاکستان، وزیر پٹرولیم اور اوگرا سے مطالبہ کیا کہ اس بے تحاشہ اضافے کا نوٹس لیں اور عوام پر اتنا ظلم و ستم نہ ڈھائیں کہ عوام سڑکوں پر نکل آئیں


Comments

comments