حلال فوڈ اتھارٹی کے ذمہ داروں کی آنکھوں پر چربی چڑھ گئی۔


ایبٹ آباد:حلال فوڈ اتھارٹی کے ذمہ داروں کی آنکھوں پر چربی چڑھ گئی۔غریب رگڑے میں۔ بااثرافراد کو کھلی چھوٹ دیدی گئی۔ اس ضمن میں ذرائع نے صحافیوں کو بتایاکہ حلال فوڈ اتھارٹی کے ذمہ داروں نے ایبٹ آباد میں اشیائے خوردونوش کے نام پر لوٹنے والے مخصوص گروہ سے ہاتھ ملارکھاہے۔ جو کہ انتہائی چھوٹے انڈوں کی فروخت ،غیرمعیاری کوکنگ آئل کی فروخت، ہوٹلوں پر غیرمعیاری کھانوں، کیمیکل ملے دودھ کی تیاری کے علاوہ دیگر وائٹ کالرز کرائم میں ملوث ہیں۔ ذرائع کے مطابق حلال فوڈ اتھارٹی کے ذمہ داروں کو صرف غریب دوکاندار ہی عوام کے قاتل دکھائی دیتے ہیں۔ اور ان پر بھاری جرمانے کئے جاتے ہیں۔ حلال فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر عدیل کے مطابق چالیس لاکھ روپے کے جرمانے عائد کئے گئے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب دودھ فروشوں کا کہنا ہے کہ اگر غریب کے دودھ میں سے مکھی نکل آئے تو پورا دودھ ضائع کردیاجاتاہے۔ لیکن مذہب اسلام میں کہاگیاہے کہ اگر مکھی کسی کھانے پینے کی چیز میں گرجائے تو مکھی کو دوبارہ اسی مشروب یا پانی وغیرہ میں ڈبوکر پینے کی اجازت دی گئی ہے۔

حلال فوڈ اتھارٹی کے ذمہ داروں کی وجہ سے سینکڑوں گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑگئے اور لوگ بیروزگار ہوکر اپنے کاروبار ختم کررہے ہیں۔ کیونکہ غریبوں پر تو بیس بیس ہزار روپے جرمانہ کیاجاتاہے۔ لیکن ایبٹ آباد شہر کے اندر جولوگ جگہ جگہ کھلا کوکنگ آئل غیرقانونی طور پر فروخت کررہے ہیں۔ وہ حلال فوڈ اتھارٹی والوں کو بالکل نظر نہیں آتا۔ اس کے علاوہ پورے شہر میں چھوٹے سائز کے انڈے ، غیر معیاری آئسکریم فروخت کرنیوالے موٹرسائیکل والوں نے بھی سلیمانی ٹوپیاں پہن رکھی ہیں۔ اس کے علاوہ غیرمعیاری مصالحہ جات، نمک اور بیکریوں کے کارخانے بھی آجکل حلال فوڈ اتھارٹی والوں کو نظرآنا بند ہوگئے ہیں۔ کیونکہ اب حلال فوڈ اتھارٹی کے ذمہ داروں کیساتھ دونمبر کاروبار کرنیوالوں نے یاریاں پال لی ہیں۔ جبکہ ایبٹ آباد میں کئی مقامات پر غیرقانونی اور غیر معیاری منرل واٹر تیار کیاجارہاہے۔ وہ بھی حلال فوڈ اتھارٹی والوں کو نظر نہیں آرہا۔ اورکس وجہ سے حلال فوڈ اتھارٹی والوں نے گھناؤنے کاروبار کرنیوالوں سے آنکھیں چرانا شروع کررکھی ہیں؟ یہ ہے وہ سوال جو عوام حلال فوڈ اتھارٹی والوں سے پوچھ رہے ہیں۔


Comments

comments