لوکل روٹس پر کرایوں میں اضافہ واپس لے لیاگیا۔


ایبٹ آباد:کمشنر ہزارہ نے مقامی روٹس پر کرایوں میں حالیہ اضافے کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے دیا ہے اور سیکرٹری آر ٹی اے ہزارہ کو حکم دیا ہے کہ وہ پرانے کرایوں کے نوٹیفکیشن کو بحال رکھتے ہوئے فوری طور پر اعلامیہ جاری کیا جائے اس فیصلے سے ایبٹ آباد کے شہریوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور کمشنر ہزارہ کے اس فیصلے کو عوام دوست فیصلہ قرار دیاکمشنر ہزارہ نے کہا کہ مقامی روٹس پر سی این جی پر چلنے والی ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اس وقت تک اضافہ نہ کیا جائے جب تک سی این جی کی قیمت 91روپے فی کلو نہیں ہو جاتی 2012کے فارمولے کے تحت اضافہ کیا جائے جس میں سی این جی کی قیمتوں میں ردوبدل کے بعد کرایوں میں اضافے کے حوالے سے مکمل تفصیلات درج ہیں ان خیالات کا اظہار کمشنر ہزارہ اکبر خان نے اپنی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کیا جس میں سیکرٹری آر ٹی اے انصر خان، اسسٹنٹ کمشنر رومان برہانہ، ڈی ایس پی سرکل کینٹ اشتیاق خان، سیکرٹری ٹو کمشنراور پریس کلب کے سابق صدور راجہ محمد ہارون اور سردار شفیق احمد و دیگر صحافیوں نے شرکت کی ۔

اس موقع پر کمشنر ہزارہ نے کرایوں میں حالیہ اضافے پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور سیکرٹری آر ٹی اے کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ کرایوں میں اضافے کے فیصلے کے حوالے بطور چےئرمین مجھے کوئی اطلاع نہیں دی گئی اور نہ ہی قواعد و ضوابط کے تحت کوئی اجلاس بلایا گیا اور نہ ہی سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے سٹیک ہولڈر کو اعتماد میں لیا گیا جس پر سیکرٹری آر ٹی اے نے کہا کہ کرایوں میں اضافے کا فیصلہ میرا ذاتی تھا اور میں نے ٹرانسپورٹروں کے مفاد میں یہ فیصلہ کیا جس پر کمشنر ہزارہ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے فیصلوں سے قبل متعلقہ سٹیک ہولڈر کو بلا کر اعتماد میں لیا جاتا ہے اور جس کے بعد انتظامیہ اور چےئرمین کو اس اجلاس کے حوالے سے بھی اعتماد میں لیا جاتا ہے مگر آپ نے جو کام کیا یہ سراسر غیر قانونی تھا جس سے ایبٹ آباد کی عوام کو تکلیف پہنچی لائن اینڈ آرڈر کے مسائل کھڑے ہوئے اور انتظامیہ کی بے عزتی بھی ہوئی لہذا اس اضافے کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے کیونکہ نہ ہی سی این جی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور نہ ہی ٹرانسپورٹروں کی طرف سے مطالبہ کیا گیا ہے آئندہ کرایوں میں اضافہ کا فیصلہ 2012کے فارمولے کے تحت کیا جائے ۔

یاد رہے کہ کرایوں میں اضافے کے فیصلے سے ایبٹ آباد کی عوام نے شدید احتجاج کیا اور اسے غیر منصفانہ فیصلہ قرار دیا جس پر تحصیل ناظم ایبٹ آباد اسحاق سلیمانی کی زیر صدارت اجلاس میں اس فیصلے کو غیر قانونی قرار دے کر قرار داد بھی نائب ناظم سردار شجاع احمد نے منظور کروائی تھی اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں نے پریس کلب اور ڈپٹی کمشنر آفس کے سامنے مظاہرہ بھی کیا تھا اور احتجاجی ریلی بھی نکالی تھی اور اس فیصلے کو عوام دشمن فیصلہ قرار دیا تھا اور اسے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا کمشنر ہزارہ کے اس فیصلے کے بعد ایبٹ آباد کے شہریوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور کمشنر ہزارہ کے اس فیصلے کو خوش آئندہ اور عوام دوست قرار دیا اور کہا کہ آئندہ بھی ایسے فیصلے کیے جائیں گے جس سے عوام کی فلاح و بہبود ہو اور اس میں شہریوں کا مفاد ہو۔


Comments

comments