آمدنی اٹھنی۔ خرچہ روپیہ: وفاقی حکومت نے ریڈیوپاکستان ایبٹ آباد کو بند کردیا۔


ایبٹ آباد:وفاقی حکومت نے ریڈیو پاکستان ایبٹ آباد کو بند کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں ریڈیو پاکستان گزشتہ کئی سالوں سے ایبٹ آباد میں کام کر رہا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ درجنوں افراد کو روزگار بھی حاصل تھا ریڈیو پاکستان ایبٹ آباد قومی اور علاقائی زبانوں کے فروغ کے ساتھ ساتھ حالات حاضرہ کیلئے گزشتہ اٹھائیس سالوں سے کام کر رہا تھا وفاقی حکومت نے اس نشریاتی ادارے کو بند کر کے نہ صرف ہزارہ کی عوام کے ساتھ زیادتی کی ہے بلکہ درجنوں لوگوں کے روزگار پر بھی شب خون مارا ہے اور آزادی اظہار رائے کے ایک اہم ذریعے کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔

جس کے ذریعے لوکل فنکاروں، آرٹسٹوں، قلماروں، شعراء اور ادیبوں کو اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے مواقع میسر آ رہے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو روزگار بھی حاصل تھا پی ٹی آئی حکومت نے اپنے منشور کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دیگر کئی شعبوں کی طرح محکمہ اطلاعات پر بھی شب خون مارنا شروع کر دیا ہے پہلے اشتہارات کی مد میں پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا پر وار کیا گیا اس کے بعد اداروں سے چھانٹیاں کروائی گئیں اے پی پی، پی ٹی وی، ریڈیو پاکستان سے بھی لوگوں کو بیروزگار کیا گیا جبکہ میڈیا پر پابندیوں اور اشتہارات نہ ہونے کی وجہ سے ملک بھر میں لاکھوں صحافی بھی بیروزگار ہو گئے ہیں۔

ریڈیو پاکستان ایبٹ آباد جو گزشتہ اٹھائیس سالوں سے یہاں کے مقامی لوگوں کی آواز بن کر کام کر رہا تھا اسے بند کر دیا گیا ہے پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے مقامی ارکان اسمبلی بھی ریڈیو پاکستان کی بندش پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور ایک ادارے کو بند ہونے پر انہوں نے آنکھیں بھی بند کر لی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ہزارہ ڈویژن میں پی ٹی وی کے بیورو کو بھی بند کیا جا رہا ہے جس سے مقامی لوگوں کے روزگار اور یہاں کے مقامی مسائل کو اجاگر کرنے کی ایک اور آواز کو دبا دیا گیا ہے

gif


Comments

comments