ماسٹرکے بعد بیچلرڈگری کرنیوالے ا ایبٹ آباد یونیورسٹی کے قاضی خلیق الرحمن کاکارنامہ۔


ایبٹ آباد :ایبٹ آباد یونیورسٹی کے اسسٹنٹ رجسٹرار قاضی خلیق الرحمن کا منفرد اعزاز، ہونہار طالبعلم نے بیچلرز ڈگری سے پہلے ماسٹر ڈگری کا امتحان دے کر کے گینیزبک ریکارڈ میں اپنا نام درج کرانے کیلئے دوڑ دھوپ شروع کر دی، اسسٹنٹ رجسٹرار قاضی خلیق الرحمننے ہزارہ یونیورسٹی سے ماسٹر ڈگری کا سال 2007میں دیا بعدازاں موصوف بیچلرز ڈگری یاد آئی تو 2010میں الخیر یونیورسٹی مظفر آباد سے ڈگری حاصل کر لی، گینیز بک نے منفرد کارنامے پر اسسٹنٹ رجسٹرار قاضی خلیق الرحمنکی تلاش شروع کر دی۔

ذرائع کے مطابق ایبٹ آباد یونیورسٹی کے اسسٹنٹ رجسٹرار قاضی خلیق الرحمن کا سکینڈل منظر عام پر آگیا، یونیورسٹی میں اسسٹنٹ رجسٹرارکے عہدے پر فائز عہدیداران کی جعلسازی کا انکشاف ہوا ۔جس میں قاضی خلیق الرحمن نے دنیا بھر کے جلعسازوں کو پیچھے چھوڑ دیا ۔ اس ضمن میں ایک ذمہ دار ذرائع نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ایبٹ آباد یونیورسٹی کے موصوفنے ایم کا امتحان ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ میں سال 2007میں بذریعہ رول نمبر 62228رجسٹریشن نمبر 07-P-575دیا۔

جس کے بعد موصوف کو یاد آیا کہ بیچلرز ڈگری کا امتحان بھی لازم ہے جس پر موصوف نے بی اے کا امتحان سال 2010میں الخیر یونیورسٹی مظفرآباد سے بذریعہ رولنمبر 14745رجسٹریشن AUL (BA) 987/2008کے تحت دیا اور پاس کیا۔ موصوف کی جعلسازی بے نقاب کرنے کیلئے آئی آئی کے تحت کمپلنسٹ نمبر 3149کے تحت ڈی ایم سی کیلئے درخواست دی گئی جس پر جعلسازی کا پردہ چاک ہو گیا اور ہزارہ یونیورسٹی نے اسسٹنٹ رجسٹرار قاضی خلیق الرحمن2007میں ایم اے امتحان دینے کی تصدیق کرتے ہوئے رولنمبر 6222رجسٹریشن نمبر 07-P-575کی ڈی ایم سی جاری کر دی۔ جس سے جعلسازی پر مہر شت ہو کر رہ گئی، واضح رہے کہ ہائیرایجوکیشن کمشن الخیر یونیورسٹی کی جاری اسناد کی تصدیق کرنے سے بھی معذرت کر چکا ہے۔


Comments

comments