قومی سلامتی کے اداروں نے کسٹم کلیئرنگ ایجنٹ کو حراست لے لیا۔ 


ایبٹ آباد:قومی سلامتی کے اداروں نے کسٹم کلیئرنگ ایجنٹ کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ ایبٹ آباد سے لاپتہ ہونے والے نوجوانوں کی تعدادچھ سے زائد ہوگئی۔ اس ضمن میں ذرائع نے صحافیوں کو بتایاکہ قومی سلامتی کے اداروں نے جھنگی میں مبینہ کارروائی کے دوران ستمبر2017 ء میں محمد افضل ولدسرور خان نامی نوجوان کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل گیا۔ بعدازاں محمد افضل کی گرفتاری کے تیسرے دن ایک مرتبہ پھر جھنگی میں ہی کارروائی کرتے ہوئے محمد ہاشم ولد محمد اکرم سکنہ جھنگی سیّداں اور بعدازاں ذیشان شاہ ولد منظور حسین شاہ سکنہ لمبی ڈھیری کو بھی گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کرگیا۔ بعدازاں چارہفتوں کے بعد سپاہ صحابہؓ کے سابق صوبائی صدر حاجی غلام مصطفی کا بیٹا عمرعلی بھی ہری پور سے لاپتہ ہوگیا۔دس فروری 2018ء لمبی ڈھیری کارہائشی شہزاد ولد قمرزمان بھی لاپتہ ہوگیا۔

مقامی ذرائع کے مطابق شیخ البانڈی کا رہائشی شادی شدہ حافظ عبدالماجد ولد محمد اکرم خان جوکہ کسٹم کلیئرنگ ایجنٹ بھی تھا اور منیاری کی دوکان بھی چلاتاتھا۔ ذرائع کے مطابق قومی سلامتی کے اداروں نے چنار روڈ پر مبینہ کارروائی کے دوران حافظ عبدالماجد کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیاہے۔ حافظ عبدالماجد کے ورثاء کا کہنا ہے کہ پولیس ہماری ایف آئی آر بھی درج نہیں کررہی ہے۔ ہماری پولیس حکام سے اپیل ہے کہ حافظ عبدالماجد کو جلد از جلد بازیاب کروایاجائے۔


Comments

comments