ہزارہ موٹروے کے بارے میں اہم معلومات۔


ہری پور(وائس آف ہزارہ رپورٹ) وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ہزارہ موٹروے (E-35)کے برہان تا شاہ مقصود تک 47 کلومیٹر انٹرچینج سیکشن کا افتتاح کر دیا ہے 47 کلومیٹرطویل یہ منصوبہ چین پاکستان اقتصادی راہدارای کا اہم حصہ ہے۔صوبہ خیبرپختونخوا میں ایم ون کی تکمیل کے بعد موٹروے کی تعمیر کا یہ دوسرا منصوبہ ہے جس کو کامیابی سے مکمل کیا گیا ہے چھ رویہ ہزارہ موٹروے (برہان۔حویلیاں)کی کل لمبائی تقریباً 57 کلومیٹر ہے اور یہ تین پیکجز پر مشتمل ہے۔ پہلا پیکج برہان سے جھاری کس تک 20.40 کلومیٹر، دوسرا پیکج جھاری کس سے سرائے صالح 19.20 کلومیٹر جبکہ تیسرا سیکشن سرائے صالح سے حویلیاں تک 17.10 کلومیٹر طویل ہے۔ موٹروے پر30 پْل اور فلائی اوورز،31 انڈر پاسز اور157 باکس کلورٹس تعمیر کئے گئے ہیں۔ موٹروے کے اس حصے کو تین سال سے بھی کم عرصے میں مکمل کیا گیا ہے۔ ہزارہ موٹروے کی تعمیر سے حطار انڈسٹریل ایریا، ہری پور، حویلیاں، ایبٹ آباد اور شمالی علاقہ جات کی تقریباً 60 لاکھ کی آبادی کو فائدہ پہنچے گا۔

ہزارہ موٹروے پر روزانہ 28500 گاڑیاں سفر کریں گی اور سفری اوقات میں بھی خاطر خواہ کمی ہوگی۔ ہزارہ موٹروے کی تعمیر اس علاقے کے عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا،جس کو پورا کردیا گیا ہے۔ ہزارہ موٹروے کی تعمیر سے پورا علاقہ قومی شاہرات اور موٹرویز کے نیٹ ورک سے منسلک ہوگیا ہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی، وزارت مواصلات چین،پاکستان اقتصادی راہداری کے عظیم منصوبے کے تحت شمالاً جنوباً موٹرویز اور ایکسپریس ویز کے کئی ایک منصوبوں پر عمل پیرا ہے۔ بنیادی مقصد ملک کے شمالی علاقہ جات کو جنوب میں واقع بندرگاہوں تک تیز رسائی فراہم کرنا ہے۔ کراچی۔لاہور موٹروے کے منصوبے کو بھی تسلسل سے آگے بڑھایا جارہا ہے۔ ان تمام منصوبوں کا مقصد ملک کے اندر بین الاقوامی معیار کا روڈ نیٹ ورک کا قیام ہے۔ روڈ نیٹ ورک سے نہ صرف پاکستان بلکہ اس پورے علاقے کی معیشت پر مثبت اثرات آئیں گے اور پاکستان میں روزگار کے مواقع سامنے آنے سے لوگوں کا معیار زندگی بلند کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔


Comments

comments