انسپکٹرجنرل خیبرپختونخواہ نے سابق ڈی ایس پی جمیل الرحمن کیخلاف تحقیقات کا حکم جاری کردیا۔ 


ایبٹ آباد:شہری کیخلاف جھوٹامقدمہ۔ انسپکٹرجنرل خیبرپختونخواہ پولیس نے سابق ڈی ایس پی جمیل الرحمن کیخلاف تحقیقات کا حکم جاری کردیا۔ سات نومبر کو رپورٹ پیش کرنے کا حکم۔ اس ضمن میں گلشن اقبال ایبٹ آباد کے رہائشی محمد شبیر ولد محمد رمضان نے صحافیوں کو بتایاکہ سابق ڈی ایس پی گلیات جمیل الرحمن کیخلاف میں نے صوبائی محتسب اعلیٰ کو درخواست دی تھی۔ جس کی پاداش میں ڈی ایس پی گلیات جمیل الرحمن نے مجھے اور میری اہلیہ جمشید بی بی کو گرفتار کرکے تھانہ ڈونگاگلی لے گئے۔ جہاں دوگھنٹوں کے بعد میرے اور میری بیوی کیخلاف گھرجلانے اورکتے کو مارنے کی جھوٹی ایف آئی آر تھانہ ڈونگاگلی میں علت نمبر: 233 بجرم: 436/429/427/34 درج کی۔ میں اور میری بیوی ایک ہفتے تک جیل میں قید رہے۔ بعد میں بدنیتی پر مبنی کیس کاچالان بھی عدالت میں جمع کروایاگیا۔ جوکہ پراسیکیوشن کے اعتراضات کے بعد انکوائری میں جھوٹا ثابت ہوا۔

ABBOTTABAD: Feb18 – DSP Galiyat Jamil-Ur-Rehman addressing Press Conference in PS Cantt. (File Photo)

جوڈیشل مجسٹریٹ ایبٹ آباد نے مذکورہ کیس کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے خارج کردیا۔ اس کے علاوہ ایس پی شعبہ تفتیش ایبٹ آباد نے جھوٹے کیس میں جانبداری کا مظاہرہ کیا۔ میری طرف سے پیش کئے جانیوالے ٹھوس ثبوت/ شواہد کو نظرانداز کیا۔ میں نے انسپکٹرجنرل خیبرپختونخواہ پولیس کو ڈی ایس پی جمیل الرحمن، سابق انچارج پولیس چوکی باڑہ گلی ہیڈ کانسٹیبل سلطان کیخلاف انکوائری کی مختلف درخواستیں دیں۔ ہرمرتبہ ایبٹ آباد پولیس کے افسران ڈی ایس پی جمیل الرحمن کو بچانے میں سرگرم رہے۔ میں نے انکوائری آفیسر کی جانبداری کی وجہ سے دوبارہ انسپکٹر جنرل خیبرپختونخواہ پولیس کے پاس گیا۔ اوران سے شفاف اور غیرجانبدارانہ انکوائری کا مطالبہ کیا۔ جس پر انسپکٹرجنرل خیبرپختونخواہ پولیس نے ریجنل پولیس آفیسر ہزارہ کو حکم دیاہے کہ سات نومبر سے قبل ڈی ایس پی جمیل الرحمن کیخلاف انکوائری مکمل کرکے رپورٹ پیش کی جائے۔ ریجنل پولیس آفیسر ہزارہ نے ایس پی شعبہ تفتیش ضلع ہری پور شاہ نذر کو انکوائری آفیسر مقرر کرکے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ محمد شبیرنے الزام لگایاکہ مقامی پولیس افسران ڈی ایس پی جمیل الرحمن کو بچارہے ہیں۔ جبکہ ڈی ایس پی جمیل الرحمن نے جانتے بوجھتے ہوئے میرے اور میری بیوی کیخلاف جھوٹی ایف آئی آر درج۔ میری پولیس حکام اور صوبائی حکومت سے اپیل ہے کہ مجھے انصاف فراہم کیاجائے اور جھوٹی ایف آئی آر درج کرنیوالے ڈی ایس پی کو فوری طور پر عہدے سے برطرف کیاجائے۔


Comments

comments