شملہ انٹرچینج کھیل ختم پیشہ ہضم۔ شہری اراکین اسمبلی کیخلاف سراپا احتجاج۔


ایبٹ آباد :ایبٹ آباد کے اراکین اسمبلی ایک مرتبہ پھرشہریوں کا حق لینے میں ناکام۔ شملہ انٹرچینج کا منصوبہ ختم۔ اراکین اسمبلی جنبہ برادری کے مسائل حل کرنے میں مصروف۔شہریوں کا وفاقی حکومت اور چیف آف آرمی سٹاف سے ایبٹ آباد شہر کیلئے ہزارہ موٹروے پر انٹرچینج دینے کا مطالبہ۔ اس ضمن میں ذرائع نے صحافیوں کو بتایاکہ پاکستان آرمی کی جانب سے شملہ پہاڑی پر انٹرچینج بنانے کی سمری وفاقی حکومت کو دی۔ اس انٹرچینج کیلئے پاکستان آرمی نے اراضی بھی دینے کی پیشکش کی۔ سابقہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت کے دور میں اس شملہ پہاڑی انٹرچینج کیلئے سروے بھی مکمل کیاگیا۔ اور توقع تھی کہ ایبٹ آباد شہر کو انٹرچینج کے ذریعے ہزارہ موٹروے سے منسلک کردیاجائے گا۔ لیکن مسلم لیگ(ن) کی حکومت کے خاتمے کے بعد ایبٹ آباد سے پاکستان تحریک انصاف کے ایم این اے اراکین اسمبلی منتخب ہوئے۔ ایبٹ آباد میں سی پیک کا کام اپنے آخری مراحل میں ہے۔ اور شملہ پہاڑی کے عقب میں سرنگ کا کام بھی تقریباً مکمل ہونے والا ہے ۔ اور اس علاقے میں ایبٹ آباد شہر کیلئے کوئی انٹرچینج نہیں بنائی جارہی ہے۔ جس کی وجہ سے شہریوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ ایبٹ آباد سے منتخب ہونے والے اراکین اسمبلی حسب سابق و عادت اپنے جنبہ، برادری اور ووٹروں سپورٹروں کے مسائل حل کرنے میں مصروف ہیں۔ جبکہ ان کے پاس ایبٹ آباد شہر کے اجتماعی مسائل پر سوچنے اور ان پر عمل کرنے کا وقت بالکل نہیں ہے۔جس کی وجہ سے یہ خدشہ ہے کہ ایبٹ آباد شہر کو انٹرچینج ملنا ایک خواب بن چکا ہے۔

ABBOTTABAD: Mar20 – View of Work on Tunnel on CPEC, in Banda Singlian area. ONLINE PHOTO by Sultan Dogar

ایبٹ آباد کے شہریوں کا کہنا ہے کہ شملہ انٹر چینج کی تعمیر ایبٹ آباد کے عوام کی بنیادی ضروریات اور ٹریفک مسائل خاتمہ کیلئے ناگزیر ہے جس کی عدم تعمیر پر عوام بھر پور احتجاج پر مجبور ہوں گے ۔ ایبٹ آباد شہر اپنے محل وقوع اور اہم عسکری مراکز کی وجہ سے منفرد مقام رکھتا ہے جس میں لاکھوں نفوس کی آبادی ٹریفک کی وجہ سے گوناگوں مسائل سے دو چار ہے ۔ہزارہ موٹر وے کے قیام کے دوران اس خطے کے عوام نے اپنی قیمتی مالاک اور اپنے اسلاف کی قبروں تک کی قربانیاں دیں مگر شو مئی قسمت ہزارہ موٹر وے کے مجوزہ منصوبے میں ایبٹ آباد جیسے اہم شہر کیلئے انٹر چینج کی عدم تعمیر شہر کے باسیوں کے ساتھ ناانصافی اور عظیم منصوبے کے تحت سفری سولیات کی فراہمی میں رکاوٹ کے مترادف ہے ۔

شہریوں کا مزید کہناتھاکہ عوامی مفادات کے باوجود حکام نے اس اہم مسئلہ پرکوئی توجہ نہ دی اور تاحال شملہ انٹر چینج کی تعمیر کے حوالے سے حکمران مخمے کا شکار ہیں۔اراکین اسمبلی نے اس اہم مسئلہ پر توجہ نہ دی عوام علاقہ بھر پور احتجاج پر مجبور ہوں گے ۔ ایبٹ آباد شہر سیاحتی مقامات گلیات ، ٹھنڈیانی و دیگر علاقہ جات کا مرکزی مقام ہے اور یہاں عسکری اداروں کے تمام سنٹرز اور پاکستان ملٹری اکیڈیمی کاکول بھی واقع ہے جس کی وجہ سے شملہ انٹر چینج کی تعمیر ناگزیر ہے ۔

حکومت نے اگر شملہ انٹر چینج کی تعمیر میں کوتاہی برتی تو عوام علاقہ سمیت سڑکوں پر آنے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ صوبائی و مرکزی حکومت پر ہو گی ۔شہریوں نے اراکین اسمبلی کو خبردار کیا کہ عوامی مفادات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے فوری طور پر شملہ انٹر چینج کی تعیر کا اعلان کیا جائے گا تاکہ شہر سے نہ صرف ٹریفک کے اژدہام کا خاتمہ ممکن ہو سکے بلکہ لاکھوں کی تعداد میں عوام علاقہ کی بہترین سفری سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکے۔


Comments

comments