ڈپریشن کاآسان علاج۔


ڈاکٹر مسعود اختر تنولی
صدر ہزارہ ہومیو پیتھک ایسی ایشن
0333-5261525،0300-5937385

Depression is a common but serious mood disorder. It caose seuere symptoms that affect how feel, think and handle daily activites, such as sleeping, eating of working.
تعریف :ڈپریشن کے معنی اُداس کے ہیں،یہ ایک ذہنی بیماری ہے اور سب سے عام ہے ۔
وجوہات : جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ دماغ کے اندر کئی طرح کے کیمیکل ہوتے ہیں جو ایک خاص توازن میں ہوتے ہیں اگر کسی وجہ سے ان کیمیکلز کے تواز ن میں خلل پڑ جائے تو مریض ڈپریشن میں چلا جاتا ہے ،بعض خاندانوں میں یہ موروثی ہوا کرتا ہے ،لیکن بعض اوقات حالات لوگوں کو ڈپریشن کا شکار کر دیتے ہیں ،زندگی میں کئی طرح کے برے حالات کے آ جانے کی وجہ سے بھی انسان اسی پرابلم میں پھنس جاتا ہے
ایک اچھے اور لائق ڈاکٹر کا فرض ہے کہ وہ مریض کی مکمل ہسٹری سے واقفیت حاصل کرے تا کہ اے اصل وجہ معلوم ہو سکے ۔
عام علامات : General Symptoms ۔1 ۔ڈپریشن کا مریض ہر وقت اُداس رہتا ہے اور اُسے ارد گرد کے کاموں میں کوئی دلچسپی نہیں رہتی ۔2 ۔مریض لوگوں سے ملنے جُلنے سے گھبراتا ہے اور اکیلا رہ کر خوش ہوتا ہے ۔3 ۔مریض اپنے کاموں پر ٹھیک طریقے سے توجہ نہیں دے پاتا ۔4 ۔ایسے مریضوں کو مستقبل میں نہ تو کوئی دلچسپی ہوتی ہے اور نہ ہی وہ کسی بھی طرح سے پُر امید ہوتے ہیں بلکہ وہ اپنی یادوں میں کھوئے رہتے ہیں اورماضی میں غلطیوں پر پچھتاتے ہیں ۔5 ۔اس طرح وہ اپنے آپ کو ماضی میں ہو جانے والی غلطیوں پر قصور وار سمجھتا ہے اور اپنے آپ کو دوسروں کے مقابلے میں کمتر سمجھنے لگتا ہے ۔
6 ۔ایسے مریضوں کو بھوک ختم ہو جاتی ہے اور نیند میں کمی کے باعث وہ زیادہ خرابی کا شکار ہو جاتے ہیں ۔
7 ۔خواتین میں عموماً نیند کی زیادتی ہو جاتی ہے ان کی بھوک بھی بڑھ جاتی ہے جس کے باعث وہ موٹی وہ جاتی ہیں ۔8 ۔کئی مرتبہ ڈپریشن کا مریض رونے لگتا ہے اُسے بار بار رونا آتا ہے اکثر مریض تسلی دینے پر زیادہ رونے لگتے ہیں 9 ۔ایسی حالت میں وہ سوچتا ہے کہ کاش موت ہو جائے اور اس طرح دنیا کے غموں سے اُس کی جان چھوٹ جائے ۔10 ۔ڈپریشن کے مریض کو چھوٹے چھوٹے اور معمولی نوعیت کے کام کاج سے بھی الجھن ہوا کرتی ہے اور وہ ذرا ذرا سی بات پر غصہ ہو جاتا ہے ،اُس کو اپنے مستقبل کے بارے میں کوئی فکر نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ کسی بھی قسم کی کوئی پلاننگ کرتا ہے 11 ۔ڈپریشن کے باعث مریض ہر وقت تھکاوٹ محسوس کرتاہے قبض ہو جاتی ہے ،سر درد رہنے لگتا ہے جسم کے پٹھے درد کرنے لگتے ہیں ۔آخر کار وہ خیال کرتا ہے کہ وہ کسی خطر ناکبیماری میں گرفتار ہو چکا ہے ۔13 ۔ایسے مریض یہ خیال کرنے لگتے ہیں کہ مرنے کے بعد وہ جہنم میں داخل کئے جائیں گے اور ان کی دنیا میں بھی ذلت ہے اور آخرت میں بھی ۔اگر چہ ڈپریشن شدت اختیار کر لے تو مریض کو مختلف آوازیں بھی آنے لگتی ہیں جو اسے برا بھلا کہنے کے ساتھ ساتھ خود کشی کی طرف راغب کرتی ہیں ۔شدید حالتوں میں یہ کیفیت ہوا کرتی ہے عام ڈپریشن میں ایسا نہیں ہوتا ۔14 ۔ایسے مریضوں کو دنیا کا ہر کام بوجھ محسوس ہوتا ہے اور وہ کودکشی کے بارے میں سوچنا شروع کر دیتے ہیں منصوبے بناتے ہیں اور آخر ان کا علاج نہ کیا جائے تو وہ خود کشی کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔
ڈپریشن کی اقسام ۔1 ۔ری ایکٹو ڈپریشن ۔ Reactive Depression جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے کہ یہ ڈپریشن کسی ناخوشگوار حالت کی بنا پر ری ایکشن کے طور پر ہو جاتا ہے اگر زندگی میں کوئی پریشانی آجائے تو تو مریض ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے لیکن حالات کے ٹھیک ہو جانے پر مریض بھی بلکل ٹھیک ہو جاتا ہے ۔
2 ۔اینڈو جینس ڈپریشن
Endogeneus Depression اس ڈپریشن کو (یونی پولر ڈپریشن ) بھی کہتے ہیں ۔مریض بغیر کسی وجہ کے اس میں گرفتار ہو سکتا ہے حالانکہ اس کے حالات زندگی بہتر ہوتے ہیں ۔اس ڈپریشن کے اٹیک چند دنوں سے لیکر کئی مہینوں تک ہو سکتے ہیں اور زندگی میں بار بار ہوتے رہتے ہیں ۔
3 ۔مینک ڈیپریسوبیماری
Manic Despression Disease اس کا دوسرانام (ہائی پولرڈیپریسوانس)ہے ایسے کیسوں میں مریض کو اکثر اوقات دورے پڑتے ہیں کبھی تو مریض اچانک اُداس اور کبھی بے حد خوش ہوتا ہے خوشی کی کیفیت میں وہ اپنے اندر بے حد طاقت اور جرت محسوس کرتا ہیچند گھنٹے نیند لیکر بھی وہ تازہ دم ہو جاتا ہے ایسے مریض دولت کو تیزی سے لٹانا شروع کر دیتے ہیں اور انہیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ اس کی اہمیت کیا ہے یہ مریض اپنے آپ کو دنیا کا ذہین اور کامیاب ترین انسان تصور کرتے ہیں ۔زور زور سے اور اونچی آواز سے بولتے ہیں اگر ان کو روکا جائے تو لڑنے لگتے ہیں ان کی کیفیت میں یہ اپنی مخالف جنس میں بہت دلچسپی لیتے ہیں اور اگر ان کا خیال نہ رکھا جائے تو یہ کئی طرح کے مسائل کھڑے کر دیتے ہیں۔ایسے مریض بے ہودہ مذاق کرنے لگتے ہیں اور لگا تار بولتے رہتے ہیں،اس بیامری کا دورہ چند دنوں سے لیکر کئی ہفتوں تک رہتا ہے دراصل یہ بیماری دماغ کے کیمیکل جس کا نام (نار ایپی لیفرین اور سپروٹو نین)ہے کی مقدار بڑھنے سے ہوتا ہے ۔بعض لوگ ان کو نارمل اور بعض لوگ ان کو ڈرامہ باز کہتے ہیں لیکن در حقیقت یہ بیماری میں مبتلاء ہوتے ہیں اور قابل رحم ہوتے ہیں اور خاص توجہ اور علاج سے اس مرض پر قابو پایا جا سکتا ہے ۔
4 ۔ڈیپر سیونو روس Depressive Neurosis اس بیماری میں مریض کم و بیش تمام عمر ڈپریشن میں رہتا ہے ۔
5 ۔گریف ری ایکشن (صدمہ)


Grief Reaction صدمہ کی وجہ سے ڈیپریشن نارمل ری ایکشن ہے اور تین ماہ تک رہ سکتا ہے اس کیفیت میں مریض کو اپنے کسی قریبی عزیز کی موت کا غم ستاتا ہے اور وہ ہر وقت اسے یاد کرتا ہے اور اس مرحوم / مرحومہ کا فلاں کام اور کہنا نہیں مانتیپر اپنے آپ کو قصور وار سمجھتا ہے اگر میں ان کا کہنا مان لیتا تو شاید ایسا نہ ہوتا ویسا نہ ہوتا ۔ایسے مریض بغیر ادویات کے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ٹھیک وہ جاتے ہیں اس کے علاوہ بے شمار ایسے امراض ہیں جو ڈیپریشن کا باعث بنتے ہیں ۔ہومیو پیتھی میں ڈیپریشن کا بہت ہی اچھا اور عمدہ علاج موجود ہے جو علامات کی مماثلت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے مگر بعض اوقات ہم مختلف لیبارٹری ٹیسٹ کا بھی سہارا لیتے ہیں ۔ہومیو پیتھی میں اس مرض کے بے شمار ادویات موجود ہیں ہومیو پیتھی ادویاتبہت زیادہ مریض پر غور و فکر کے بعد تجویز کی جاتی ہیں اور ان کو جب ہومیو پیتھک ڈاکٹر کے پاس معائنہ کے لئے لایا جائے تو ایسے مریضوں کا بڑا باریک بینی سے معائنہ کرنا چاہئے تا کہ ادویات فوری طور پر اپنا اثر دکھاسکیں ۔ہومیو پیتھک ادویات ڈیپریشن کے مریضوں پر بڑا خاص اثر انداز ہوتی ہیں گویا کسی جادو کے ذریعے مریض کو ٹھیک کر دیا ہو ۔میرے اس دعا ہومیو پیتھک کلینک کنج قدیم روڈ ایبٹ آباد کو کھلے ہوئے تقریباً 24 سال گزر گئے ہیں اس عرصے میں لا تعداد مریض آئے اور شفاء یاب ہو کر گئے اور اب بھی جب کہ میں یہ آرٹیکل لکھ رہا ہوں بلکہ لکھنے کے لئے بیٹھا ہوں تو میرے کلینک میں تین مریض ڈیپریشن کے موجود ہیں او ر میں ان کی ہسٹری لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ مریض گریف ری ایکشن Grief Reaction (صدمے) کے ہیں ٹیسٹ:TEST
1 ۔خون کا CBC کروانا چاہئے اور کمی خون کے بارے میں دیکھنا چاہیے۔2 ۔تھائی رائیڈ گلینڈ کی رطوبت(ہارمون )اگر کم مقدار میں پیدا ہو تو بھی ڈیپریشن ہو سکتا ہے اس کو چیک کرنے کے لئے ڈاکٹر خون میں TSH,T4,T3 لیول چیک کرنے چاہئیں ۔3 ۔خون میں وٹامن B12 کا لیول (یوریا)کر لے لے نن کو چیک کرنا چاہئے ۔جگر کے افعال کو چیک کرنا چاہئے۔اگر ڈیپریشن کے ہمراہ سخت ترین سر درد ہو اور مریض کی شخصیت بھی تبدیلی کا شکار ہو تو (کیٹ سیلکن آف ہیڈ )کروا کر برین ٹیومر اور دیگر دماغی تبدیلوں کو دیکھنا ضروری ہے ۔
آخر میں سانحہ پشاور کیلئے دعا گو ہوں کہ اُن شہیداء بچوں کے وارثان کو اس ڈیپریشن کی بیماری سے نجات دے آمین ۔کیونکہ اس طرح کے حادثات ڈیپریشن کو جنم دیتے ہیں ۔خواہ وہ بچے ہوں یا بڑے ۔


Comments

comments