کمزور تفتیش۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نے ڈاکٹراظہرشیرخیلی کو ضمانت پر رہا کردیا۔ 


ایبٹ آباد:پولیس کی کمزور تفتیش۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نے ڈاکٹراظہرشیرخیلی کو ضمانت پر رہا کردیا۔ اس ضمن میں ذرائع نے صحافیوں کو بتایاکہ عیدالاضحی کی شب ایبٹ آباد یونیورسٹی کے فنانس ، فارمیسی ڈیپارٹمنٹ اور لیبارٹریوں کو نامعلوم افراد نے آگ لگادی تھی۔ جس کے نتیجے میں یونیورسٹی کا قیمتی ریکارڈ اورفرنیچر وغیرہ جل گیاتھا۔ تھانہ حویلیاں میں نامعلوم افراد کیخلاف ایف آئی آر کا اندراج کیاگیا۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے اس حملے کا شک فارمیسی ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر اظہر شیرخیلی پر کیا۔ جس پر پولیس کی جانب سے ڈاکٹر اظہر شیرخیلی کے موبائل فون کی سی ڈی آر نکلوائی گئی تووہ مشکوک نکلی۔ کیونکہ وقوعہ کے وقت ڈاکٹر اظہر شیرخیلی کئی گھنٹوں تک حویلیاں، بالڈھیر، مسلم آباد کے علاقوں میں مسلسل موجود رہے۔ جب ڈاکٹراظہرشیرخیلی کو حراست میں لیکر ان سے پوچھ گچھ کی گئی تو انہوں نے پولیس کی جے آئی ٹی کیساتھ جھوٹ بولا کہ وہ وقوعہ کے وقت اپنے گھر واقع نڑیاں میں تھے۔ جبکہ وقوعہ کے دوران ڈاکٹر اظہر شیرخیلی صبح تین بجے یونیورسٹی سے نکالے جانیوالے فیکلٹی ممبر فیضان قریشی سے مسلسل موبائل فون پر رابطے میں تھے۔ اگلی صبح یہ دونوں ایک ہی گاڑی میں بیٹھ کر اٹک چلے گئے۔ دوران تفتیش ڈاکٹر اظہرشیرخیلی مسلسل جھوٹ بولتے رہے ۔ جبکہ ان کے موبائل فون کا تمام ریکارڈ انتہائی مشکوک رہا۔ کیونکہ رات تین بجے وہ کئی گھنٹوں تک حویلیاں کے علاقے میں کیا کررہے تھے؟ ڈی ایس پی اعجاز کے مطابق ایبٹ آباد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں سی سی ٹی وی کیمرے موجود ہی نہیں ہیں۔

ڈاکٹر اظہر شیرخیلی کو ایم او ڈی کی عدالت میں پیش کرکے ایک روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کرکے تفتیش کی گئی۔ لیکن پولیس کیس میں مزید پیش رفت اورٹھوس ثبوت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹراظہر شیرخیلی نے سردار ناصر اسلم ایڈوکیٹ کی وساطت سے جوڈیشل مجسٹریٹ حویلیاں کی عدالت میں درخواست ضمانت دائرکی۔ وکلاء کے دلائل سننے کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ نے ڈاکٹر شیرخیلی کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کردیا۔

میراجرم غیرقانونی تقرریوں اورکرپشن کیخلاف آواز بلند کرناتھا: ڈاکٹر اظہرشیرخیلی۔

ایبٹ آباد : ایبٹ آباد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر اظہر شیر خیلی نے کہاہے کہ ضلع ایبٹ آباد کے بزرگوں ، نوجوانوں اور طالبہ بالخصوص ایبٹ آباد کی صحافی برادری کا شکریہ ادا کرنے کیلئے میرے پاس الفاظ نہیں آپ لوگوں کی محبت اور جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں آپ لوگوں کی محبت سے میرے اندر حق و سچ میرٹ اور حقوق کے حصول کیلئے نیا جوش اور ولولہ پیدا ہوا ہے میرا مقصود یونیورسٹی کے اندر میرٹ کی بالادستی ، نااہل اور نان فیزیبل لوگوں کی غیر قانونی تقرریوں اور کرپشن کے خلاف آواز بلند کرنا تھا لیکن یہ بات یاد رکھیں یہ گرفتاریاں اور مقدمے میرا حوصلہ پست نہیں کر سکتے ادارے کی بقاء اور اپنے بچوں کے حقوق اور مستقبل کیلئے جنگ میں پہلے سے زیادہ حوصلہ استقامت اور ہمت کے ساتھ لڑوں گا میں اپنے صوبے کے کسی بھی حصے کے لوگوں کے خلاف نہیں ہم سب ایک کلمہ پڑھنے والے بھائی بھائی ہیں میری جدوجہد کو کرپٹ مافیا اپنے مذموم مقاصد کے حصول کیلئے پشتون اور نان پشتون کا رنگ دے کر جھوٹا پروپیگنڈہ کر رہا ہے میری جدوجہد ادارے کی ترقی اور جو حقوق ہزارہ کے لوگوں کے ہیں وہ میرٹ کی بنیاد پر ہمیں دیے جائیں اور جو حقوق صوبے کے دیگر ڈویژن کے پڑھے لکھے لوگ کے ہیں وہ انہیں میرٹ کی بنیاد پر دیے جائیں ان خیالات کا اظہارانہوں نے یونیورسٹی آتشزدگی کیس میں ضمانت پر رہائی کے بعد ایبٹ آباد پریس کلب میں اپنی ضمانت پر رہائی کے بعد منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ آج کے بعد یونیورسٹی کی بقاء اور ترقی کے ساتھ ساتھ کرپشن اقرباء پروری اور غیر قانونی تعیناتیوں کے خلاف ایک نئے ولولہ کے ساتھ جدوجہد شروع کر رہا ہوں لیکن اس کے لئے مجھے عوام کا تعاون درکار ہو گا آپ لوگ جب میرے دست و بازو بنیں گے ہم اپنے مقاصد زیادہ بہتر اور جلدی حاصل کریں گئے ۔


Comments

comments