حقیقی بیٹے کے اغواہ برائے تاوان کا ڈرامہ رچانے والا باپ بے نقاب


ایبٹ آباد پولیس نے اپنے حقیقی لخت جگر کے اغواہ برائے تاوان کا ڈرامہ رچانے والے باپ کو بے نقاب کر کے بچہ بازیاب کروا لیا.
تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز تھانہ میرپور کی حدود اسلامیہ پارک عثمان آباد کے رہائشی ظاہر ولد آغا جان نے درخواست دی کہ اس کے حقیقی بیٹے مزمل کو نامعلوم افراد نے اغواہ کر لیا ہے اور اغواہ کاروں نے بزریعہ فون ایک کروڑ  روپے تاوان کا مطالبہ کیا ہے ایبٹ آباد پولیس کے لیے یہ خبر کسی بھی بڑے سانحے سے کم نہ تھی کیوں کہ ایبٹ آباد پاکستان کے پرامن ترین شہروں میں سے ایک ہے اور اس طرح کے واقعات ایبٹ آباد میں دیکھنے کو نہیں ملتے ساری صورت حال پر ضلعی پولیس سربراہ عباس مجید خان مروت کی خصوصی ہدایت پر ایس پی ہیڈکوارٹر قمر حیات خان کی زیر نگرانی خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی جس میں ڈی ایس پی میرپور ، ایس ایچ او میرپور اور تکنیکی معاونت کے لیے سی ٹی ڈی ہزارہ کا سٹاف شامل تھا نے اس واقعے کی مکمل چھان بین کرتے ہوئے تھانہ سی ٹی ڈی میں مقدمہ درج رجسٹرڈ کیا گیا اور تفتیش کا آغاز کرتے ہوئے کافی تگ و دود کے بعد ٹیکنیکل بنیادوں پر کاروائی عمل میں لائی جا کر مغوی بچے کو اپنے حقیقی والد کے ہی گھر سے برآمد کر لیا یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مدعی مقدمہ جو کہ بچے کا حقیقی باپ بھی ہے نے بچے کی بازیابی کے لیے 1 کروڑ تاوان کا ڈرامہ اس لیے رچایا کیوں کہ ظاہر ایک کاروباری آدمی ہے منڈیاں اصغر پلازہ میں کپڑے کا کاروبار کرتا ہے اس شخص نے لوگوں سے ادھار پر رقوم لے رکھی تھیں اور کافی مالی بے ضابطگیوں کا شکار تھا اس حوالے سے ہمدردی حاصل کرنے کے لیے ظاہر ولد آغا جان نے اپنے حقیقی بچے کی اغوائیگی کا یہ سب ڈرامہ رچایا جسے ایبٹ آباد پولیس نے کافی محنت اور ٹیکینکل بنیادوں پر بے نقاب کرتے ہوئے مذکورہ شخص کے خلاف جھوٹی درخواست پر .قانونی کاروائی کے لیے تفتیش شروع کر دی ہے


Comments

comments