ترنوائی کے مشتعل مظاہرین کا قلندرلودھی کے گھرکاگھیراؤ۔ نعرے بازی۔


قلندرآباد :پچاس انسانی جانوں کے نقصان کے بعد ترنوائی کے بالائی علاقوں کے عوام کو شعور آ ہی گیا ۔ سینکڑوں کا ہجوم چلاتا بلبلاتا قلندرلودھی کے دروازے پر جا پہنچا ۔ پندرہ سالہ اقتدار میں ہمیں پکی سڑک نہ ملی تو فاسفیٹ مافیا کا ناطقہ بند کرنے کے ساتھ ساتھ شاہراہ ریشم بھی بلاک کر دی جائے گی ۔ جس کی تمام تر ذمہ داری قلندر لودھی اور حکومت پر آئے گی ۔ممبر تحصیل کونسل نعیم لودھی کے ساتھ مذاکرات کے بعد احتجاجی مظاہرین وارننگ دے کر واپس چلے گئے ۔ گزشتہ روز تریڑھی ، ریالہ ، گلڈانیاں ، کالو بانڈی اور دیگر علاقوں سے سینکڑوں افراد کا احتجاجی جلوس قلندرآباد پہنچا اور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ جس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ تریڑھی روڈ کو پختہ نہ کرنے کی صورت میں ڈاکٹر اظہر ، قلندرلودھی ، ناہید اعوان اور سلیم شاہ ، سردار مہتاب سمیت کوئی امیدوار علاقہ میں ووٹ مانگنے نہ آئے ۔ ہمارے علاقے سے اربوں روپے کی معدنیات نکالی جاتی ہیں اور ہمیں سڑک تک نہیں دی جا رہی ۔

قلندر لودھی پندرہ سال سے ایم پی اے ہیں اور ان کی یہ آبائی یونین کونسل ہے اس پر آج تک ان کی نظر بھی نہیں پڑی ۔ مقررین میں علاقہ کے جنرل کونسلر خاقان عباسی ، اور چیئرمین تحریک شعور چوہدری راشد اور دیگر شامل تھے ۔ قلندرآباد پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرے کے بعد مظاہرین جلوس کی شکل میں صوبائی وزیر خوراک قلندرلودھی کے گھر گئے جہاں ممبر تحصیل کونسل نعیم لودھی کے ساتھ انہوں نے مذاکرات کیئے ۔ اور سڑک سمیت آر ایچ سی کا مطالبہ کیا ۔ اور اعلان کیا کہ اگر دو ہفتوں تک روڈ کا کام شروع نہ ہوا تو دوبارہ ہزاروں کی تعداد میں عوام کو لیکر شاہراہ ریشم بند کر دی جائے گی ۔ ساتھ ہی نچلے علاقے کی واٹر سپلائی سکیم کے پائپ کاٹ دیں گے ۔ علاقے کو فاسفیٹ مافیا لوٹ کر کھا چکا ہے لیکن سڑکیں نہیں بنائی گئیں ۔ بنی ہوئی سڑکوں کو بھی فاسفیٹ مافیا نے تباہ کر کے رکھ دیا ہے ۔ حکومت اور متعلقہ ذمہ داران کب غفلت سے جاگیں گے اس وقت تک اس روڈ کی خراب حالت کی وجہ سے درجنوں حادثات رونما ہو چکے ہیں جن میں کم از کم پچاس سے زائد انسانی جانیں ضائع ہوئیں ۔ حالیہ واقعے میں بھی تین اموات ہوئی ہیں جن کی ذمہ داری قلندرلودھی پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے پندرہ سالوں میں عوام کو کچھ نہیں دیا ۔ مظاہرین پر امن رہے اور نعرے بازی بھی جاری رہی ۔ بعد ازاں جلوس کی شکل میں واپس چلے گئے ۔ مظاہرے کے دوران پولیس مکمل طور پر الرٹ رہی۔


Comments

comments