حاجی مہابت اعوان کی سیاست اپنے منطقی انجام کو پہنچ گئی۔


ایبٹ آباد:مسلم لیگی امیدوارحاجی مہابت اعوان کی سیاست اپنے منطقی انجام کو پہنچ گئی۔برادری ازم اور تعصب کا نعرہ بھی کام نہ کرسکا۔ الیکشن جیتنا ہے تو پانچ سال عوام میں رہ کر خدمت کرنا پڑے گی۔ شہریوں کے تاثرات۔ اس ضمن میں ذرائع نے صحافیوں کو بتایاکہ 2013ء کے الیکشن میں مسلم لیگ(ن) سے تعلق رکھنے والے حاجی مہابت اعوان نے پارٹی ٹکٹ نہ ملنے پر بغاوت کا اعلان کرتے ہوئے آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لیا اور صرف 4400ووٹ حاصل کئے۔ سال 2018ء کے عام انتخابات کیلئے حاجی مہابت اعوان نے حلقہ این اے سولہ سے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا اور پارٹی ٹکٹ کیلئے اپلائی بھی کیا۔ حاجی مہابت اعوان جو کہ شروع دن سے ہی ایک کمزور امیدوار تھے ۔ ذرائع کے مطابق سردار مہتاب احمد خان عباسی اور ان کے خاندان کی جانب سے مسلم لیگ(ن) کے بائیکاٹ کے بعد ٹکٹوں کی تقسیم کا اختیار مرتضیٰ جاوید عباسی کے پاس آگیا۔ اور انہوں نے مبینہ طور پر ایک خفیہ ڈیل کے تحت حاجی مہابت اعوان کو حلقہ این اے سولہ کیلئے مسلم لیگ(ن) کا ٹکٹ جاری کردیا۔ جبکہ حاجی مہابت اعوان سے بہترامیدوار بھی مسلم لیگ(ن) کے پاس تھے۔ جن میں سابق ضلع ناظم سردار شیربہادر اور سابق ضلع نائب ناظم شوکت تنولی سرفہرست ہیں۔ ذرائع کے مطابق مرتضیٰ جاوید عباسی کے بھی اپنے مفادات تھے۔ کیونکہ مرتضیٰ جاوید عباسی نے حویلیاں سرکل سے پی ٹی آئی کے ووٹ بھی حاصل کرناتھے۔ جس کی وجہ سے ایک ڈیل کے تحت حاجی مہابت اعوان کو مسلم لیگ(ن) کا ٹکٹ صرف اس وجہ سے جاری کیاگیا کہ وہ سب سے کمزور امیدوار ہیں۔

حالیہ عام انتخابات کے دوران حاجی مہابت اعوان کو صرف 54879ووٹ ملے۔ حلقہ پی کے 39 سے الیکشن میں حصہ لینے والے مسلم لیگی امیدوار عنایت اللہ خان جدون نے 19245 جبکہ حلقہ پی کے 38 سے مسلم لیگی امیدوار ارشد اعوان نے 26437 ووٹ حاصل کئے۔عنایت اللہ خان جدون اور ارشد اعوان نے مجموعی طور پر45682 ووٹ حاصل کئے۔ جبکہ حاجی مہابت اعوان جو کہ صرف اور صرف مسلم لیگ(ن) کے ٹکٹ اور اپنی برادری پر انحصار کئے ہوئے تھے۔ عوامی پذیرائی حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ اس کے علاوہ حاجی مہابت اعوان کے پاس کوئی منشور، ایبٹ آباد کی ترقی کیلئے کوئی وژن نہیں تھا۔ فیس بک پر تعصب کا نعرہ لگانے کا انہیں سب سے زیادہ نقصان پہنچا اور حلقہ این اے سولہ کی تمام برادریوں نے انہیں مجموعی طور پر مسترد کردیا۔ بہت سے علاقوں کے لوگوں نے یہ بھی شکایت کی ہے کہ حاجی مہابت اعوان ان کے علاقوں میں جھوٹے اعلانات کرکے چلے جاتے تھے۔ ایک مسجد کیلئے انہوں نے ایک لاکھ روپے کا اعلان کیا۔ لیکن اہل محلہ ان کے گھر کے چکر لگالگا کر تھک گئے۔ اور پھر دوبارہ حاجی مہابت کی طرف نہیں گئے۔ علی خان نامی ایک نوجوان نے بتایاکہ ہم لوگ گیمز کے سلسلے میں بنگلہ دیش جارہے تھے۔ ہمارے پاس ٹکٹوں کے پیسے نہیں تھے۔ ہم لوگ حاجی مہابت کے پاس گئے۔ انہوں نے ٹکٹوں کے پیسے دینے کا وعدہ کیا۔ لیکن اس کے بعد نہ حاجی مہابت ہمیں ملے اور نہ ہی انہوں نے ہماری کال اٹنڈ کی۔

جبکہ دوسری جانب ایبٹ آباد کے شہریوں نے الیکشن میں حصہ لینے والے تمام امیدواروں سے کہاہے کہ اگر ووٹ لینے ہیں تو پانچ سال تک عوام کیساتھ رابطے میں رہیں۔ الیکشن کے دنوں میں آکر پھر پانچ سال تک غائب رہنا۔ ضروری کام کے سلسلے میں جانیوالے لوگوں سے نہ ملنا اور ان کی فون کالز کا جواب نہ دینے والے امیدوار لوگوں سے بھی اچھائی کی توقع نہ رکھیں۔


Comments

comments