ناقص تفتیش پر پولیس کا نسٹیبل مظہر قتل کیس کا مرکزی ملزم ڈیڑھ ماہ بعد ضمانت پر رہا۔


ایبٹ آباد:پیسے کا جادوچل گیا۔ ناقص تفتیش پر پولیس کا نسٹیبل مظہر قتل کیس کا مرکزی ملزم ڈیڑھ ماہ بعد ضمانت پر رہا۔پولیس اورمقامی ذرائع کے مطابق سولہ اپریل کی شام کاغان کالونی میں قتل کئے جانیوالے پولیس کانسٹیبل مظہر کے قتل میں نامزد چارملزمان کاغان کالونی کے رہائشی لقمان عرف لکی ، سپلائی کے رہائشی احتشام شاہ، جاوید شہید روڈ کے رہائشی ولیدولدشفیق اورزین ولد شاہدجیل میں بند ہیں۔پولیس کانسٹیبل مظہر جوکہ ہاڑی دا نکہ کا رہائشی بتایاجاتاہے، کو رواں سال سولہ اپریل کی شام کاغان کالونی میں بیدردی سے گولی مارقتل کردیاگیاتھا۔فائرنگ کے دوران حارث نامی نوجوان بھی گولیاں لگنے سے زخمی ہواتھا۔ ذرائع کے مطابق تینوں ملزمان نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پولیس کی تفتیش پر عدم اعتماد کرتے ہوئے ڈی آئی جی ہزارہ کو کیس کی تفتیش ہری پور پولیس کو منتقل کروانے کی درخواست دی۔ جس پر کیس کی تفتیش ہری پور پولیس کو منتقل کردی گئی۔ہری پورپولیس کے انسپکٹررحم نوازکی سربراہی میں تین رکنی تفتیشی ٹیم تشکیل دی گئی ۔ جس میں تھانہ سرائے صالح کے ایس ایچ او انورخان اور اے ایس آئی راشد کو بھی شامل کیاگیا۔

ABBOTTABAD: Apr19 – Policemen Showing Waleed 2nd Year Student of Private College, Accused in Murder of Police Constable Mazhar. ONLINE PHOTO by Sultan Dogar

ذرائع کے مطابق ہری پور پولیس کے ماہر تفتیشیوں نے مبینہ طور پر بھاری رقوم کے عوض ناقص تفتیش کی۔ اور اپنے پیٹی بند بھائی کے قاتلوں کو بچانے کی پوری کوشش کی۔ پشاور ہائیکورٹ کے ذرائع کے مطابق کیس کے مرکزی ملزم جاوید شہید روڈ کے رہائشی ولید ولدشفیق کو ضمانت پر رہائی مل گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق دیگر دو ملزمان لقمان عرف لکی اور احتشام شاہ کی ضمانتیں بھی جلد متوقع ہیں۔


Comments

comments