ایبٹ آباد میں ہیلتھ کیئرکمیشن بھتہ خوری کے مرکز میں تبدیل۔ 


ایبٹ آباد:ہیلتھ کیئرکمیشن بھتہ خوری کے مرکز میں تبدیل۔ ایبٹ آبادشہر اورگردونواح میں عطائی ڈاکٹروں، حکیموں، ڈینٹل سرجنوں کی بھرمار۔ ماہانہ بھتوں کے عوض اٹک پار کے ذمہ داران خاموش۔ کارکردگی صفر۔ اس ضمن میں ذرائع نے صحافیوں کو بتایاکہ ڈاکٹروں ، حکیموں، لیبارٹریوں وغیرہ کی چیکنگ کیلئے خیبرپختونخواہ حکومت نے ہیلتھ کیئر کمیشن کا قیام عمل میں لایا۔ ایبٹ آباد میں ہیلتھ کیئر کمیشن کا دفتر محکمہ صحت کے دفتر میں بنایاگیاہے۔ اس دفتر میں صرف ایک کلرک اور ایک کلاس فور ملازم ہی موجود ہوتے ہیں۔ جبکہ ہسپتالوں اور لیبارٹری وغیرہ کی چیکنگ کیلئے تعینات انسپکٹرحضرات پشاور میں پائے جاتے ہیں۔ جوکہ مہینے میں دوتین مرتبہ صرف بھتہ وصولی کیلئے آتے ہیں۔ باقی نہ تو کسی ہسپتال، لیبارٹری، ڈینٹل کلینک وغیرہ کو چیک کیاجاتاہے اور نہ ہی سیل کیاجاتاہے۔ کچھ عرصہ قبل ایک نجی چینل کی جانب سے ایبٹ آباد کی مختلف لیبارٹریوں میں قہوہ کو پیشاب ظاہر کرکے ٹیسٹ کروانے کے پروگرام بھی نشر کئے گئے۔ لیکن ہیلتھ کیئر کمیشن کے ذمہ داروں نے ان لیبارٹریوں کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔

ایبٹ آباد شہر کے مختلف علاقوں میں اس وقت غیرمعیاری لیبارٹریوں کی بھرمارہے۔ جن میں تعینات غیرتربیت یافتہ افرادصرف اندازوں سے ٹیسٹوں کی رپورٹ جاری کرتے ہیں۔ جبکہ ڈینٹل کلینک میں بھی عطائی دانتوں کا علاج کر رہے ہیں۔ مختلف دیہی علاقوں میں ڈسپنسر اور معمولی پڑھے لکھے لوگ ڈاکٹربن کر نہ صرف مریضوں کو مختلف ادویات تجویز کررہے ہیں۔ بلکہ انہیں انجکشن تک بھی خود ہی تجویز کرکے لگا رہے ہیں۔ ان تمام غیرقانونی کاموں کی روک تھام کیلئے بنائے جانیوالے ہیلتھ کیئر کمیشن کے ذمہ داروں کی بھتہ خوری کی وجہ سے عطائی ڈاکٹروں کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ ذرائع نے انکشاف کیاکہ ہیلتھ کیئر کمیشن کے اہلکاروں کی جانب سے وصول کئے جانیوالے بھتے کا ایک بڑا حصہ سیکرٹری ہیلتھ خیبرپختونخواہ تک بھی پہنچایاجارہاہے۔


Comments

comments