ٹی ایم اے ایبٹ آباد کا بھتہ لاکھوں تک جا پہنچا ۔


ایبٹ آباد:ضلع و تحصیل حکومتوں کے ذمہ داران فرائض سے غافل ‘ ایبٹ آباد میں تبدیلی کے غبارے سے ہوا نکل گئی تجاوزات کی بھرمار سے شہر مکمل طور پر مچھلی منڈی میں تبدیل متعلقہ عملہ نے سرکاری فرائض کو بھتہ وصولی کا ذریعہ بنا لیا ضلعی ذمہ داران کی کاروائیاں غریب ریڑھی بانوں اور تھڑے فروشوں تک محدود جبکہ شہر کی بلند و بالا عمارتیں عملہ اور افسران کیلئے کماؤ پتر بن گئیں ۔ کھلے عام لوٹ مار اور کرپشن کا بازار گرم ۔شیڈول ریٹس میں من چاہا اضافہ کر کے قانون کو جوتی کی نوک پر رکھ دیا گیا ۔ٹی ایم اے کے لائسنس یافتہ افراد بھی متعلقہ شعبہ کے انچار ج جلاد سے پناہ مانگنے لگے ۔ایبٹ آباد ٹی ایم اے کا بھتہ لاکھوں روپے تک جا پہنچا ۔غریب ریڑھی بانوں نے چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کمشنر ہزارہ سے فوری مداخلت کا مطالبہ کر دیا ۔

ذرائع کے مطابق ضلع و تحصیل حکومتوں کے تجاوزات خاتمہ کے نعرے دم توڑ گئے جبکہ عمل اور افسران کی آشیرباد سے شہر میں تجاوزات مافیا نے اپنے پنجے گاڑھ لئے اس ضمن میں ایک ذمہ دار ذرائع نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ضلع و تحصیل کے ذمہ داران ٹی ایم اے میں موجود کرپٹ مافیا کے سامنے بے بس ہو گئے اور شہر سے تجاوزات خاتمے کے نام پر لاکھوں روپے بھتہ وصول کیا جانے لگا ذرائع نے مزید کہا کہ شہر کی بلند و بالا عمارتیں کرپٹ مافیا کیلئے پیدا گیری کا ذریعہ بن گئیں ہیں اور دوکانات کی توسیع ‘ فرسٹ فلور اور سیکنڈ فلور کیلئے بھاری نذرانوں کے عوض سرکاری قوائد و ضوابط کی دھجیاں بکھیری جانے لگیں ذرائع نے مزید کہا کہ کرپٹ عملہ کی چہرہ دستیوں کے شر سے ریڑھی بان اور تھڑے فروش محفوظ نہیں اور انہیں بھی پیدا گیری اور بھتہ کیلئے تنگ کیا جا رہا ہے ۔

ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق موجودہ وقت شہر سے لاکھوں روپے منتھلی جمع کی جا رہی ہے جس میں اینٹی اینکروچمنٹ عملہ اپنی بھرپور صلاحیتیں بروئے کار لا رہا ہے ذرائع نے کہا کہ لنک روڈ بند کھوہ عیدہ گاہ روڈ جناح روڈ کنج روڈ فوارہ چوک ‘ کریم پورہ پرانی سبزی منڈی بند گلی میں تبدیل ہو کر رہ گئی جبکہ شیر کے مصروف رتین شاہراہوں اور چوک کمائی کے اڈوں میں تبدیل ہو چکے ہیں ذرائع نے مزید کہا کہ اینٹی انکروچمنٹ عملہ اور افسران غریب عوام کیلئے جلاد بن چکے ہیں اور رات کے اندھیرے میں غریبوں کے روزگار پر شب خون مارا جانے لگا ذرائع نے واضع کیا کہ کھلے عام لوٹ مار اور کرپشن کا بازار گرم ہے جبکہ سرکاری شیڈول ریٹس کی بھی کھلے بندوں خلاف ورزی معمول بن چکی ہے ۔

ذرائع نے انکشاف کیا کہ توسیع کے نام پر سرکاری بلڈنگز سے لاکھوں روپے نذرانہ وصولی عملہ نے اپنا وطیرہ بنا لیا ہے جس کے عوض تجاوزات میں اضافے کی اجازت دی جانے لگی جس کے برعکس غریب ریڑھی بانوں اور تھڑے فروشوں کی جمع پونجی سے محروم کرتے ہوئے ان کے مال و متاع سے بھی محروم کیا جا رہا ہے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کرپشن کے خاتمہ کے دعویداروں کی چھتر چھریا تلے بدعنوانی ‘ کرپشن اور لوٹ مار کا بازار گرم کر کے حقیقی تبدیلی متعارف کرائی جانے لگی عمائدین علاوہ عوام نے چیف جسٹس پشاور ہائیکوٹ کمشنر ہزارہ و دیگر متعلقہ حکام سے اس مسئلہ میں مداخلت کرنے اور کرپٹ مافیا کو نکیل ڈالنے کا مطالبہ کر دیا ۔


Comments

comments