بچوں کی لڑائی۔ دوسگے بھائیوں سمیت مزیدتین قتل۔



ایبٹ آباد:بچوں کی لڑائی۔ دوسگے بھائیوں سمیت مزیدتین قتل۔ مرنیوالوں کی تعداد پانچ ہوگئی۔ الیاس خان کے بھائی اور دوبیٹوں کیخلاف مقدمہ درج۔اس ضمن میں پولیس اور مقامی ذرائع نے صحافیوں کو بتایاکہ رواں سال رمضان المبارک کے دوران ستائیس مئی کونمازتراویح کے بعد بچوں کی لڑائی پر جرگے کے دوران قریبی رشتہ داروں نے معروف ٹرانسپورٹر الیاس خان کے بھائی ناصر خان کو اندھادھند فائرنگ کرکے قتل کردیاتھا۔ فائرنگ اورجھگڑے میں اشتیاق خان ولد فیاض الحسن اور الیاس خان کا بیٹا گولیاں لگنے سے زخمی ہوگئے تھے۔ تاہم اگلے روزاشتیاق خان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں خالق حقیقی سے جاملے۔ پولیس ذرائع کے مطابق بچوں کی لڑائی پر جرگہ شروع ہونے سے قبل ہی الیاس خان کے بھائی ناصر خان کا اپنے قریبی رشتہ داروں کیساتھ جھگڑا شروع ہوگیا۔ اور مسجد کے صحن میں الیاس خان کے رشتہ داروں نذیر ولدعبدالستار، نسیم ولد ابراہیم، ناہید ولد ابراہیم، نوید ولد نذیر،حسین احمد ولد نذیر احمد ساکنان لنگرہ نے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔ جس کے نتیجے میں ناصرخان گولیاں لگنے سے موقع پر ہی مارا گیا۔ مقتول ناصر خان کے ورثاء کی دعویداری پر تھانہ حویلیاں میں ملزمان نذیر ولدعبدالستار، نسیم ولد ابراہیم، ناہید ولد ابراہیم، نوید ولد نذیر،حسین احمد ولد نذیر احمد ساکنان لنگرہ کیخلاف قتل اقدام قتل کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ۔

مقامی ذرائع کے مطابق اس دوہرے قتل کے بعد الیاس خان نے حویلیاں میں اپنی تمام جائیداد فروخت کرکے نقل مکانی کرگئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق جمعہ کے روز ناصر اور اشتیاق خان قتل کیس میں نامزد ملزمان حسین ولد حاجی عبدالستار،ابراہیم ولد عبدالستار، ضمیر احمد ولد اشرف اورنذیراحمد ولدعبدالستارکے ہمراہ گاڑی میں کھوکھر میرا سے گزر رہے تھے کہ ان کی گاڑی پرالیاس خان ولد ارشاد، اظہر ولد ارشاد، واجد ولد الیاس ، اسامہ ولد ارشادنے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی ۔ جس کے نتیجے میں حسین ولد حاجی عبدالستار،ابراہیم ولد عبدالستار، ضمیر احمد ولد اشرف موقع پر مارے گئے۔ جبکہ نذیراحمدولدعبدالستارشدیدزخمی ہوگیا۔ جسے انتہاٸ تشویشناک حالت میں ہسپتال پہنچایاگیا۔ واقع کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور لاشوں کو قبضے میں لیکر پوسٹمارٹم کیلئے آر ایچ سی حویلیاں منتقل کیا۔ ذرائع کے مطابق تھانہ حویلیاں میں الیاس خان ولد ارشاد، اظہر ولد ارشاد، واجد ولد الیاس ، اسامہ ولد ارشادکیخلاف قتل کامقدمہ درج کرلیاگیاہے اور پولیس ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے مار رہی ہے۔

واضح رہے کہ بچوں کی لڑائی سے شروع ہونیوالے اس قتل مقاتلے میں چھ قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔ اور اس جھگڑے میں مزید انسانی جانوں کے ضیاع کا اندیشہ ہے۔ پولیس کے شعبہ تفتیش میں کرپشن اور رشوت ستانی کی وجہ سے قتل کے ملزمان چند ہفتوں میں رہا ہوجاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے لوگوں میں پولیس اور عدالتوں کے نظام پر اعتماد ختم ہوتا جارہاہے اور لوگ اپنا بدلہ خود لینے کو ترجیح دیتے ہیں۔ کیونکہ عدالتوں میں سالوں کیس زیر سماعت رہتاہے۔ جس میں مدعی اور ملزمان کے بھاری اخراجات بھی آتے ہیں۔ اور آخر میں مدعی کو انصاف بھی نہیں ملتا۔


Comments

comments