بیوٹی فکیشن فنڈز میں کروڑوں کے گھپلے، نیب نے ٹی ایم اے، سی اینڈ ڈبلیو،کینٹ بورڈ کے ذمہ داروں کوطلب کرلیا۔


ایبٹ آباد: بیوٹی فکیشن فنڈز میں کروڑوں کے گھپلے، نیب نے ٹی ایم اے، سی اینڈ ڈبلیو،کینٹ بورڈ کے ذمہ داروں کوطلب کرلیا۔ بڑاپنڈوراباکس کھلنے کے قوی امکانات۔ اس ضمن میں ذرائع نے صحافیوں کو بتایاکہ پاکستان تحریک انصاف کے سابق دور میں ایبٹ آباد کوملنے والی بیوٹی فکیشن فنڈز میں وسیع پیمانے پر کرپشن کی گئی۔ بیوٹی فکیشن منصوبے کے تحت پہلے سے بنی ہوئی سڑکوں پر تارکول ڈال کرکے فنڈز ہڑپ کئے گئے۔ جبکہ شملہ پہاڑی کی تزئین و آرائش کے کام میں بھی غیرمعیاری میٹریل استعمال کرکے وسیع پیمانے پر کرپشن کی گئی۔

بیوٹی فکیشن فنڈز کا کچھ حصہ ایبٹ آباد کنٹونمنٹ کو بھی دیاگیا۔ تاہم ایبٹ آباد کنٹونمنٹ کے فنڈز میں بھی وسیع پیمانے پر کرپشن کے ثبوت قومی احتساب بیورو کو دیئے گئے۔ قومی احتساب بیورو نے بیوٹی فکیشن فنڈز میں کرپشن کے ثبوت ملنے کے بعد وسیع پیمانے پر تحقیقات کا آغاز کردیاہے۔ ذرائع کے مطابق قومی احتساب بیورو کی جانب سے جاری کئے جانیوالے مراسلہ نمبر: 1/42/IW-I/Summon/NAB (KP) 1629 میں کہاگیاہے کہ نیب حکام نے ایبٹ آباد کے بیوٹی فکیشن پروجیکٹ میں اختیارات کے ناجائز استعمال اور خردبرد کے ثبوتوں کے بعد ٹی ایم اے، سی اینڈ ڈبلیو اور کینٹ بورڈ کے ذمہ داروں کیخلاف تحقیقات کا فیصلہ کیاہے۔

اس منصوبے میں کمیشن بھی وصول کیاگیا۔ نیب حکام نے ٹی ایم اے، سی اینڈ ڈبلیو اور کینٹ بورڈ کے ذمہ داروں کو 23اپریل کو صبح دس بجے ، نیب کے دفتر واقع پی ڈی اے، حیات آباد پشاور میں مس عالیہ منور، اسسٹنٹ ڈائریکٹر انویسٹی گیشن کے سامنے پیش ہونے کا کہاگیاہے۔ واضح رہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے 2015ء میں بہت سے ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈز جاری کئے گئے تھے۔ اور ایبٹ آبادمیں درجنوں ایسے منصوبوں کا انکشاف ہواہے، جوکہ موقع پر موجود نہیں ہیں۔ تاہم ملی بھگت کے ذریعے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو، ٹی ایم اے نے ان کے بل بھی پاس کردیئے ہیں۔ وائس آف ہزارہ کی ٹیم بہت جلد ان تمام منصوبوں کی تفصیل عوام الناس کے سامنے مکمل تحقیقات کے بعد پیش کرے گی۔

gif


Comments

comments