ویلج کونسل بانڈہ پھگواڑیاں کے نائب ناظم راجہ نصیرنے اہم بیان جاری کردیا۔


شرم تم کو مگر نہیں آتی

(تحریر: راجہ نصیر(نائب ناظم ویلج کونسل بانڈہ پھگواڑیاں)

جھوٹ کا یہ پلندہ جس کسی کے ذہن کی اختراع ہے یعنی جس اخلاق جس اخلاق باختہ ۔یر قان زدہ ذہن اور گری ہوئی ہستی کی یہ تحریر ہے یا جس کسی نے اسے لکھوایا ہے یا اس پر جو لوگ گواہ کے طور پر پیش ہوئے ان کے لئے عرض ہے کہ “جھوٹے پر خدا کی ۔۔۔۔۔۔۔۔”
دوسرے کو نیچا دکھانے ۔ اس کی شہرت ، ساکھ اور مقبولیت سے بندہ اتنا بھی خوف زدہ نہ ہو کہ اس کی کردار کشی شروع کر دے ۔
حسد ، ضد ، بخیلی ، بغض اور مخالفت میں اتنا بھی آگے مت جائیے کہ اپنا ہی قد کاٹھ چھوٹا نظر آنے لگے ۔ لگتا ہے ان لوگو ں کے ضمیر مر چکے ہیں یا کومے میں ہیں کومے میں نہیں ہیں تو کم از کم گہری نیند ضرور سو رہے ہیں ۔بلکہ پتا نہیں ضمیر نام کی کوئی چیز بھی ہے کہ نہیں ۔
جھوٹے گواہوں کی جی۔ٹی ۔ ایس اڈہ میں بڑی مانگ ہے ۔ وہاں پر ایسے لوگوں کی دیہاڑی بڑی اچھی لگ سکتی ہے ۔ جھوٹی گواہیاں دیجئے کمائیے خوب کمائیے ۔ دھڑا دھڑ کمائیے مزے کیجئے۔
لیکن ایک بات یاد رکھیئے کہ آخر ہم سب نے اپنی اصل کی طرف واپس جا نا ہے ۔ قادر مطلق کو منہ دکھانا ہے ۔ اپنے کئے ہوئے ہر ہر فعل اور قول کا جواب دینا ہے ۔وہاں شرمندگی ہو گی اور آنکھیں بھی نیچی ہونگی ۔
بہر حال ہماری طرف سے محبتوں کے پھول ہیں۔ پیار ہے۔ خوشبو ہے۔ چاہت ہے۔ ہم سب کو ہمارے لوگوں نے اپنے مسائل اور پریشانیوں کے لئے منتخب کیا ہے آئیں سب مل کر خلوص نیت سے لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کریں اور ان کے معاملات و مسائل کو حل کریں ۔
سن رکھیں ! ہم ناقص کاموں اور ناقص میٹیرئل میں رکاوٹ بنیں گے ۔ تنقید بھی کریں گے ۔ ٹھیکیداروں سے پورا کام لیں گے ۔ ویلج کونسل با نڈہ پھگواڑیاں میں جو کام ہو گا میرٹ پر ہوگا ۔ معیاری اور پائیدار ہوگا ۔ کمیشن مافیا کی ملی بھگت نہیں چلنے دیں گے اگر کسی کو برا لگتا ہے تو ۔۔۔ لگتا رہے ۔ ایک بار نہیں سو بار برا لگے ۔ ٹھیکیدار جو پیسے لے گا۔ اس کے مطابق کام بھی کرے ۔
الحمد للہ ہم خالص خدمت پر یقین رکھتے ہیں اپنی عوام اور اپنے لوگوں کی بلا تفریق خدمت کرتے رہیں گے ۔ قطع نظر اس کے کہ کون کس قبیلے ، قوم اور برادری سے تعلق رکھتا ہے ۔ ہمارے لئے سب برابر ہیں علاقے کے تمام محلے ہمارے ہیں ۔ پوری ویلج کونسل ہماری ہے ۔

زراکان نزدیک کیجیئے۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم ہر گز ہر گز اور کسی صورت یہ کسی کو نہ بتائیں گے کہ کونسل کہ کتنے اجلاسوں میں کتنی بار اپنے ساتھیوں کو کون مارنے کو اٹھا ۔۔۔۔۔ کہ بس ہمیں حیا آتی ہے ۔ یہ بھی کسی کو نہ بتائیں گے کہ کونسل کے کتنے اجلاسوں میں کتنی بار خواتین ممبران کی موجودگی میں غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال کس نے کیا۔یہ فضا میں کس کی گالیوں اور مغلظات کی مہکار ہے ۔۔۔۔ اللہ ۔۔۔یہ تو جانی پہچانی ہے ۔یہ تو جانی پہچانی ہے ۔لیکن ہم مجبور ہیں کہ بس مجبورئی پردہ داری ہے۔اور ہاں ہمیں حیا ء آتی ہے ۔حیاء آتی ہے ۔
ٹھپے رہیئے صاحب ٹھپے رہیئے کیونکہ
بات نکلے گی تو دور تلک جائے گی


Comments

comments