ناظم جمیل عباسی کاقتل: جمعہ کو پولیس کیخلاف بڑے احتجاج کا اعلان۔


ایبٹ آباد (رمیض گل عباسی) ناظم بانڈی میرا جمیل عباسی کا بہیمانہ قتل، واقعہ کو 24 روز گزر گئے، پولیس کا وقت سفاک قاتلوں کی گرفتاری میں ناکام، تفریشی ٹیم کی تبدیلی کے ثمرات بھی سامنے نہ آ سکے، اہلیان گلیات کا صبر جواب دے گیا، ایکشن کمیٹی کی کال پر جمعہ کو احتجاجی دھرنے کا اعلان، دھرنے میں یوسی بگنوتر، باغ سمیت گلیات بھر سے عوام کا جم غفیر شرکت کرے گا، احتجاجی پروگرم کو مزید مؤثر بنانے کیلئے ایکشن کمیٹی نے لائحہ عمل مرتب کر دیا۔ احتجاجی دھرنے میں شرکت کیلئے تمام سیاسی و دینی تنظیموں، علمائے اکرام، طلباء اور تاجر تنظیموں کے علاوہ بلدیاتی نمائندگان کو بھی مدعو کیا جائے گا، جمعہ کے روز دم دما دم مست قلندر ہو گا، نقص امن کی ذ مہ داری پولیس اور انتظامیہ پر عائد ہو گی۔

ABBOTTABAD: Sep13 – Local men shifting the body of Nazim Village Council Bandi Mera Jameel Abbasi, Who was Murder by Unknown Assaults in Abbottabad. ONLINE PHOTO by Sultan Dogar

ذرائع کے مطابق 12 ستمبر کو ناظم بانڈی میر اجمیل عباسی کو گھر سے بلا کر قتل کر دیا گیا، جس کی ایف آئی آر تھانہ بگنوتر میں درج کرائی گئی، تھانہ بگنوتر کے تفتیشی سٹاف نے کیس کو پیدا گیری کا ذریعہ بنا لیا۔ جس پر عوام علاقہ نے احتجاجی کی ٹھان لی، اور 6 رکن ایکشن کمیٹی تشکیل دے کر سفاک ملزمان کی گرفتاری تک احتجاجی پروگرام مرتب کرلیا، جس پر حلقہ کے عوام کی مشاورت سے احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا جس میں عوام علاقہ کے علامہ حلقہ سے منتخب ممبر قومی اسمبلی مرتضی جاوید عباسی ایم پی اے سردار اورنگزیب نلوٹھہ اور تحصیل نائب ناظم سردار شجاع احمد نے خصوصی شرکت کی، جس کے دوران عوام علاقہ نے پولیس کے کردار پر کڑی تنقید کرتے ہوئے پولیس کو ملزمان کی گرفتاری کیلئے 3 دن کے ڈیڈ لائن دے دی۔

جس کے بعد قومی اسمبلی مرتضی جاوید کی قیادت میں وفد جس میں ایم پی اے اورنگزیب نلوٹھہ اور تحصیل نائب ناظم سردار شجاع احمد بھی شامل تھے نے ڈی آئی جی ہزارہ محمد عالم شنواری سے ملاقات کی جس میں ڈی پی او عباس مجید مروت اور ایس پی شعبہ تفتیش عزیز خان آفریدی نے بھی شرکت کی پولیس حکام کو پولیس کی نااہلی اور بھتہ خوری سے آگاہ کیا گیا جس پر انہوں نے تھانہ بگنوتر تفتیشی سٹاف کو لائن حاضر کر کے نیا سٹاف تعینات کر دیا اور وفد سے ڈیڈ لائن میں توسیع کے حوالے سے بھی درخواست کی گئی جس پر ایکشن کمیٹی اورعوام علاقہ کی مشاورت سے شاہراہ ریشم بندش کے حوالے سے احتجاج میں 7 روز کی توسیع کر دی گئی۔

تاہم مقرری معیاد کے خاتمے تک پولیس ملزمان تک رسائی میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر سکی جس پر علاقہ مکینوں کا صبر جواب دے گیا، اور جمعہ کے روز نماز ظہر کے بعد احتجاجی دھرنے کا اعلان کر دیا گیا جس کو مؤثر اور کامیاب بنانے کیلئے ایکشن کمیٹی محترک ہو گئی، اور ضلع بھر کی سیاسی سماجی شخصیات، ٹریڈ یونینیز، علمائے کرام اور بلدیاتی نمائندگان سے رابطے شروع کر دئیے گئے، تاکہ پولیس کی روایتی ستی اور غلفت پر آواز بلند کی جا سکے، واضح رہے کہ احتجاجی دھرنے میں یوسی بگنوتر، باغ، نتھیاگلی سمیت پورے گلیات سے عوامی سمندر شرکت کرے گا، جو پر امن احتجاج سے مثالی پولیس کی کاکردگی کو عیاں کرے گا، ایکشن کمیٹی نے واضھ کیا کہ پرامن احتجاج میں کسی شرانگیزی کی زمہ دار ضلعی انتظامیہ اورپولیس ہو گئی انہوں نے کہا کہ جمعہ کے روز احتجاجی پروگراموں کا اعلان بھی کیا جائے گا۔ اور سفاک قاتلوں کی گرفتاری تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔


Comments

comments