جناح ہسپتال کی ڈاکٹرنادیہ جواد کی غفلت سے بچی جاں بحق۔ مریضہ آئی یو پہنچ گئی۔


ایبٹ آباد:وویمن میڈیکل کالج کی جناح ہسپتال مریضوں کیلئے موت کا پیغام بن گئی۔ جناح ہسپتال کی ڈاکٹرنادیہ کی غفلت سے خاتون ساری زندگی کیلئے بھانجھ بن گئی۔ نومولود بچی جاں بحق۔ اس ضمن میں ذرائع نے صحافیوں کو بتایاکہ نواں شہر میں قائم وویمن میڈیکل کالج کی طالبات کو پڑھانے کیلئے جناح ہسپتال کے نام سے ہسپتال بنائی گئی۔ اور یہ ہسپتال پی ایم ڈی سی کے قوانین کے تحت بنائی گئی۔ اس ہسپتال میں برائے نام علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ جبکہ اخراجات شفاء ہسپتال اور آغاخان ہسپتال کے برابر لئے جاتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق نواں شہر کے رہائشی شکیل احمد کی اہلیہ زچگی کیلئے ڈاکٹر نادیہ جواد سے چیک اپ وغیرہ کرواتی تھی۔

ڈاکٹرنادیہ جواد جن کے بارے میں بتایاگیاہے کہ ان کا پرائیویٹ کلینک منڈیاں میں ہے۔ ڈاکٹرنادیہ جواد نے آپریشن وغیرہ کیلئے جناح ہسپتال میں ٹھیکہ کررکھا ہے۔ زچگی سے قبل ڈاکٹرنادیہ جواد نے شکیل احمد کی اہلیہ سے کہاکہ وہ سرجیکل سامان اورادویات کے علاوہ چالیس ہزار روپے میں جناح ہسپتال میں ان کا آپریشن وغیرہ کردیں گی۔ رات ایک بجے مریضہ کی حالت خراب ہوئی تو جناح ہسپتال میں نہ تو ڈاکٹر نادیہ تھی اور نہ ہی کوئی اور ڈاکٹر۔ ڈاکٹرنادیہ سے بار بار رابطہ کیاگیا۔ لیکن انہوں نے آنے سے معذرت کرلی۔ نرس نے نے مریضہ کو غلط انجکشن لگادیا۔ جس سے اس کی حالت مزید بگڑگئی۔ مریضہ کو رات ڈیڑھ بجے ایوب ٹیچنگ ہسپتال ریفر کردیاگیا۔ شکیل احمد کے مطابق رات کو ڈیڑھ بجے جناح ہسپتال میں کوئی ایمبولینس بھی موجود نہ تھی۔ بڑی مشکل سے ایوب ٹیچنگ ہسپتال سے ایک پرائیویٹ ایمبولینس منگوائی گئی۔ جوکہ ایک گھنٹے کے بعد پہنچی۔ بڑی مشکل سے مریضہ کو ایوب ٹیچنگ ہسپتال منتقل کیاگیا۔ جہاں ڈاکٹروں نے بتایاکہ خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے مریضہ اورنومولود بچے کو بچانا ممکن نہیں۔ تاہم ایوب ٹیچنگ ہسپتال کے ڈاکٹروں کی سرتوڑ کوششوں کے بعد مریضہ کی جان تو بچالی گئی لیکن وہ ساری زندگی اولاد نرینہ کی نعمت سے محروم ہوگئی۔ مریضہ کو خون کی دس بوتلیں لگیں۔ اور وہ کئی روز سے ایوب ٹیچنگ ہسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں زیر علاج ہے۔

مریضہ کے لواحقین نے جناح ہسپتال کو مذبح خانہ قرار دیتے ہوئے پی ایم ڈی سی اور صوبائی حکومت سے اس ہسپتال کو فوری سیل کرنے اور ڈاکٹر نادیہ جواد کا لائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ کیاہے۔ مریضہ کے لواحقین نے جناح ہسپتال اور ڈاکٹرنادیہ جواد کیخلاف دس کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کرنے کیساتھ ساتھ پولیس میں ایف آئی آر درج کرنے کا بھی اعلان کیاہے۔مریضہ کے لواحقین نے ایوب ٹیچنگ ہسپتال کے ڈاکٹروں اور عملے کا شکریہ ادا کیاہے۔ کہ جنہوں نے مریضہ کی جان بچائی۔


Comments

comments