غیرمسلم لڑکی کی خاطرظالم شوہرنے کلمہ گونئی نویلی دلہن کو ذبح کردیا۔


گڑھی حبیب اللہ :تھانہ گڑھی حبیب اللہ کی حدود میں ایبٹ آباد کی ریائشی نو بیاہتا دلہن کے قتل کا ڈراپ سین، سفاک قاتل شوہر نکلا جس نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ محبوبہ کے کہنے پر ساتھی کی مدد سے اپنی شریک حیات کو ذبح کیا، قتل کرنے کا اعتراف جرم بھی کر لیا، پولیس کی کامیاب حکمت عملی، 48 سے 64 گھنٹوں میں ملزمان کا سراغ لگا کر گرفتاری کے پی پولیس کی شاندار کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

پولیس اورمقامی ذرائع کے مطابق ایبٹ آباد بگنوترکے گاؤں تھاتھی چھترناتھ کی رہائشی نوبیاہتا لڑکی شازیہ کی گمشدگی کی رپورٹ اکیس نومبر کوتھانہ میرپور کو دی گئی، لیکن ایف آئی آر درج نہ ہوئی، 24 نومبر کو تھانہ گڑھی حبیب اللہ کو اطلاع ملی کہ تھانے کی حدود ڈمگلہ جنگلاں میں ایک جواں سالہ نوبیاہتا لڑکی کی نعش پڑی ہے، پولیس نے فورا موقع پر پہنچے اور نعش کو تحویل میں لے لیا، جسے ہاتھ پاوں باندھ کر تیز دھار آلے سے نہایت بے دردی سے قتل کیا گیا تھا، پولیس نے ورثاء تلاش کئے، قتل کی اطلاع ورثاء تک پہنچائی، لواحقین کی شناخت اور قانونی کاروائی کی تکمیل کے بعد نعش ورثاء کے حوالے کر دی گئی۔ پولیس نے اندھے قتل کی تفتیش اور چھان بین شروع کی تو پتہ چلا کہ مقتولہ شازیہ جس کی دو ہفتے قبل عبیدالرحمن نامی چچا زاد سے شادی ہوئی تھی اور وہ چاردن سے لاپتہ تھی، مقتولہ کے شوہر نے تھانہ میر پور ایبٹ آباد میں نام نہاد گمشدگی کی درخواست دی تھی، مگر متعلقہ پولیس اہلکاروں نے روایتی سستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقدمہ درج نہ کیا، مقدمہ نہ درج کرنے پر وزیر اعلی اور آئی جی ہزارہ نے بھی نوٹس لیکر ملزمان کی گرفتاری کی ہدایت کی تھی۔

جس پر پولیس نے کمال حکمت عملی اور تیزی سے قاتلوں تک پہنچ گئے، مقتولہ کے رندہ صفت شوہر سمیت اس کے سہولت کار اور منصوبہ بندی کرنے والا شریک جرم دوست ڈرائیور طاہر ولد ریاض کو بھی گرفتار کر کے تفتیش شروع کی۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق مقتولہ کے شوہر نے عبیدالرحمن ایک کرسچن لڑکی سے محبت کے جال میں پھنس کر اپنی بیوی کو قتل کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے قتل میں معاونت کرنے والے اپنے دوست جو کہ کیری ڈرائیور کی نشاندہی کی، جسے گرفتار کر لیا گیا، دوران تفتیش ملزم عبیدالرحمن نے اس سفاکانہ فعل اور واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے اہم انکشافات کیئے کہ میں ایک غیر مذہب لڑکی سے محبت کرتا تھا اور چارسال سے اس سے قربت کے تعلقات تھے، جبکہ والدین نے میری شادی زبر دستی چچا زاد سے کرا دی، جس کا میری میری محبوبہ کو شدید رنج تھا، اسی کے کہنے اور ورغلانے پر یہ انتہائی قدم اٹھانے پہ مجبور ہوا کیونکہ محبوبہ نے پریشر ڈالا کہ میں اس صورت میں ہی تم شادی کروں گی اگر تم اپنی بیوی کو قتل کر کے اسکی تصویر مجھے بھیجو گے۔

جس کے بعد ہم نے اپنے دیرینہ دوست ڈرائیور طاہر ریاض سے مل کر قتل کی منصوبہ بندی کی، بیوی کو مع زیورات بنا سنوار کے مانسہرہ کی طرف لے آیا، کیری ڈرائیور سے ڈیل ہوئی کہ قتل میں ساتھ دینے کے بدلے زیورات بیچ کر ڈیڑھ لاکھ روپیہ دوں گا، باقی زیورات محبوبہ کو ملیں گے، دوران سفر راستے عطرشیشہ میں کھانا کھانے کے بعد کولڈرنکس میں نیند کی گولیاں ملا کر بیوی کو پلائیں جس سے وہ بے ہوش ہو گئی اور ڈمگلہ کے مقا م پر جنگل میں سہ پہر 3 بجے دوست کی مدد سے اپنی بیوی اٹھا کر ایسی جگہ لے گئے جہاں کوئی دیکھ نہ سکے، بیوی کے ہاتھ پاوں باندھ کر نہایت بے دردی سے ذبح کر دیا اور چالاکی سے خود کے بے گناہ ثابت کرنے کیلئے تھانہ میر پور میں گمشدگی کی درخواست بھی دے دی، ملزم نے دوران تفتیش اس بات کا اعتراف بھی کیا ہے بیوی کو قتل کرنے کے بعد اسکی لاش کی تصویریں اپنے محبوبہ کو واٹس ایپ بھی کی تھیں کہ اسے میری محبت کا یقین ہو سکے، ملنے والی اطلاعات کے مطابق تھانہ گڑھی حبیب اللہ پولیس نے مقتولہ کے شوہر، ڈرائیور کو گرفتار کرنے کے بعد قتل کی منصوبہ بندی کرنے میں شریک جرم اسکی محبوبہ کو بھی حراست میں لیا جائے گا، نامعلوم نعش کی سراغ لگانے اور اندھے قتل کے ملزمان کو اتنی جلدی گرفتار کر کے اصل حقائق عوام کے سامنے لانے سمیت ملزمان سے اعتراف جرم کرانے میں پولیس نے پیشہ وارانہ مہارت، ایمانداری اور فرض شناشی قابل ستائش ہے، سفاک درندے سفاک ملزمان کو پکڑ کر قانون کے کٹہرے میں لانے میں اہم کر دار ادیا کیا ۔


Comments

comments