قتل کے ملزمان سرعام دندنانے لگے۔ پولیس محافظ بن گئی۔


ایبٹ آباد:شعبہ تفتیش ملزمان کا محافظ بن گیا۔ افسران کی چشم پوشی سے مقتول خاندان در بندر کی ٹھوکریں کھانے لگا تھانہ شیروان کی حدود پھوہار میں دس روز قبل ایک قتل اور پانچ مرد و خواتین کو زخمی کرنے والے ملزمان کو پولیس گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے شعبہ تفتیش ایبٹ آباد مکمل طو رپر ناکام ہونے سے جرائم کی شح میں خطرنک اضافہ ہو گیا بااثر افراد کے آگے پولیس بے بس ہو گئی ہے دس روز قبل اشتیاق خان کے بیٹے کو پھوہار کے مقام پر اندھا دھند فائرنگ کر کے قتل کیا گیا جبکہ فائرنگ کی زد میں اشتیاق خان کی اہلیہ، بیٹی، نواسی اور سالے کی بیوی اور ایک بیٹا شجاعت خان زخمی ہوئے اور دوسرا بیٹا مشتاق خان قتل ہوا جسکے خلاف تھانہ شیروان میں ملزمان طارق، زبیر، عالمزیب ولد گل خان، اویس خان ولد اورنگزیب اور خالق داد کے خلاف مقدمہ درج ہوا جبکہ ان کی معاونت میں قاضی صدیق، قاضی حمید، جہانیگر خان آف بیڑ شامل ہیں ۔

مقتول کے والد اشتیاق خان نے وائس آف ہزارہ کو بتایاکہ ڈی پیاو کے نوٹس میں لانے کے باوجود کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی انہوں نے کہ اکہ خورشید خان تفتیشی کی ملزمان سے مبینہ ملی بھگت سے نامزد ملزمان دندناتے پھر رہے ہیں مقتول کے والد اشتیاق خان کا پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ ایبٹ آباد شعبہ تفتیش پولیس قتل کے ملزمان کو گرفتار کرنے کے بجائے انک ا محافظ بن گیا ہیپولیس کے اعلیی حکام انصاف دلائیں واضع رہے کہ شعبہ تفتیش کی بے قاعدگیوں سے تھانہ بگنوتر کی حدود باغ میں بھی مسجد کے مؤزن کے ملزمان دندناتے پھر رہے ہیں راجہ اسامہ کو قتل کرنے والے ملزمان پولیس حراست میں نہیں لئے جا سکے انوسٹی گیشن آفیسر راجہ سفیر عباسی کی غفلت کی نذر ہو رہا ہے


Comments

comments