پشاورہائیکورٹ نے ایوب میڈیکل کالج کی ڈین کے بارے میں تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔


ایبٹ آباد: پشاور ہائیکورٹ سرکٹ بینچ ایبٹ آباد کا ڈین ایوب میڈیکل کالج کی ملازمت سے برطرفی پر تفصیلی فیصلہ عدالت نے چےئرمین بورڈ آف گورنرز کی طرف سے جاری کردہ شوکاز نوٹس سمیت ملازمت سے برطرفی کے احکامات کو غیر قانونی قرار دیدیا عدالتی فیصلہ کی روشنی میں صوبہ بھر کے دیگر خود مختار اداروں کے ملازمین کو راہنمائی ملے گی جسٹس لال جان خٹک اور جسٹس ارشد علی شاہ پر مشتمل ہائی کورٹ کے ڈبل بینچ نے دونوں طرف کے وکلاء کی طرف سے مسلسل دو دن دلائل سننے کے بعد تین پٹیشن نمٹا دیں درخواست دھندگان کیطرف سے طاہر حسین لغمانی ایڈوکیٹ اور سجاد احمد عباسی ایڈوکیٹ نے پیروی کی جبکہ دوسری جانب سے ناصر اسلم خان نے پیروی کی ۔

اٹھائیس صفحات پر تفصیلی فیصلہ میں عدالت نے واضح کیا کہ چےئرمین بورڈ آف گورنرز ایوب میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کو ڈین کی برطرفی کا اختیار حاصل نہیں ہے کیونکہ ڈین منیجر کی پوسٹ پر تعینات ہیں جسکی تقرری اور برطرفی ایکٹ کے مطابق ممکن ہو گی تاہم ایکٹ اور ریگولیشن میں ڈین کی برطرفی کی وجوہات کا ذکر نہیں ہے عدالت نے چےئرمین بورڈ کی طرف سے تادیبی کاروائی اور انکوائری کے بغیر کاروائی کو صریحاً غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ متنازعہ الزامات سطحی بنیادوں پر دےئے گئے اور درخواست گزار کے جواب سنے بغیر برطرفی جیسے سخت اقدام کو جلدی میں کیا گیا جو فطری قانون کے تقاضوں کے برعکس ہے ۔

عدالت نے پراونشل انسپکشن ٹیم کے بارے میں قرار دیا کہ مجاز اتھارٹی نے انکوائری ٹیم مقرر کر کے ملازمین کے خلاف کاروائی کی اور انہیں الزامات کی فہرست فراہم کی ان کے جواب کی روشنی میں انکوائری ٹیم نے ڈین سمیت تمام متعلقہ ملازمین کو بری الذمہ قرار دیا بورڈ آف گورنرز نے انکوائری ٹیم کی رپورٹ کو 27 جون 2016 کو منظور کرتے ہوئے حکم جاری کیا اور صوبائی حکومت کو بھی مطلع کر دیا ۔

یاد رہے کہ چےئرمین بورڈ آف گورنر ایوب میڈیکل انسٹی ٹیوٹ ایبٹ آباد میجر جنرل (ر) آصف علی خان نے ڈین ایوب میڈیکل کالج ایبٹ آباد کو 25 جنوری 2018 کو شوکاز نوٹس جاری کیا اور جواب کا انتظار کےئے بغیر 31 جنوری کو انہیں ملازمت سے برطرف کر کے ڈاکٹر آفتاب ربانی کی تقرری کر دی عدالت عالیہ نے چےئرمین بورڈ آف گورنرز کے ان فیصلوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر عزیز النساء کو اپنے عہدہ پر دوبارہ بحال کر دیا ۔


Comments

comments