حلقہ پی کے چھیالیس کے خاتمے کا فیصلہ۔قلندرلودھی اور مشتاق غنی مدمقابل ۔


ایبٹ آباد: حلقہ پی کے چھیالیس کے خاتمے کا فیصلہ۔ تناول کو حویلیاں کیساتھ منسلک کرنے کی تجویز۔حلقہ پی کے چوالیس میں قلندرلودھی اور مشتاق غنی کے مدمقابل آنے کے قوی امکانات۔ اس ضمن میں ذرائع نے صحافیوں کو بتایاکہ نئی حلقہ بندیوں کے بعد ایبٹ آباد کے حلقہ پی کے چھیالیس کو ختم کرکے اس کی یونین کونسلوں کو حلقہ پی کے چوالیس، پینتالیس اور سینتالیس کیساتھ منسلک کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ ذرائع کے مطابق حلقہ پی کے چھیالیس کی شہری یونین کونسلوں بانڈہ پیرخان، بالڈھیری ، سلہڈ اور جھنگی کو حلقہ پی کے چوالیس کیساتھ منسلک کیاجائے گا۔ اس کے علاوہ یونین کونسل پاوا کو بھی حلقہ پی کے چوالیس کیساتھ منسلک کرنے کی تجویز ہے۔ بانڈہ پیر خان کے علاقہ ترنوائی کو حلقہ پی کے پینتالیس کیساتھ منسلک کیاجائیگا۔

ذرائع کے مطابق حلقہ پی کے چھیالیس کی دیہی یونین کونسلوں کو حلقہ پی کے سینتالیس کیساتھ منسلک کرنے کی تجویز زیر غورہے۔ لدڑمنگ، کلنجرکومانسہرہ کیساتھ منسلک کرنے کی تجویز۔ یونین کونسل بیڑ اور سرائے نعمت خان کو حلقہ این اے اٹھارہ ایبٹ آباد کیساتھ منسلک کیاجائیگا۔ جبری کرہکی کو بھی حلقہ این اے اٹھارہ کیساتھ منسلک کیاجائے گا۔ذرائع کے مطابق حلقہ پی کے چھیالیس کے خاتمے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے دو صوبائی وزراء مشتاق غنی اور قلندر لودھی آئندہ انتخابات میں ایک دوسرے کے مدمقابل الیکشن لڑیں گے۔ جس کی وجہ سے حلقہ پی کے چوالیس میں خوب دنگل جمے گا۔


Comments

comments