نئی حلقہ بندیوں کے بعد سردارشیربہادرنے بھی ڈائریکشن تبدیل کرلی۔


ایبٹ آباد:ایبٹ آباد میں نئی حلقہ بندیوں کے بعد سردارشیربہادرنے بھی ڈائریکشن تبدیل کرلی۔ سردار شیربہادر اورسردار مہتاب مدمقابل۔ ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی پریشانی کا شکار۔ اس ضمن میں ذرائع نے صحافیوں کو بتایاکہ حلقہ پی کے چھیالیس کی دس میں سے چاریونین کونسلیں سلہڈ ، جھنگی،بانڈہ پیرخان،بالڈھیری حلقہ این اے سترہ کیساتھ جبکہ باقی چھ یونین کونسلیں این اے اٹھارہ میں تھیں۔ نئی حلقہ بندیوں میں دو صوبائی حلقوں کو ملا کر سیدھا سیدھا ایک قومی اسمبلی کا حلقہ بنادیاہے۔سابقہ حلقہ پی کے چھیالیس ماسوائے بانڈہ پیر خان کے اسی طرح برقرار رکھاگیاہے۔جبکہ حویلیاں کی تین یونین کونسلوں کا اس میں مزید اضافہ کردیاگیاہے۔ جن میں حویلیاں شہر، حویلیاں کینٹ (سلطانپور) ، کالومیرا، نوشہرہ ،جھنگڑہ ،چمبہ اورمضافات وغیرہ شامل ہیں۔ سابقہ حلقہ پی کے چوالیس اور پی کے چھیالیس کو حلقہ این اے سترہ یعنی حلقہ این اے سولہ بنادیاگیاہے۔جبکہ سابقہ این اٹھارہ میں سے لوئرتناول کی چھ یونین کونسلیں، حویلیاں کی تین یونین کونسلوں حویلیاں شہر، حویلیاں کینٹ اورجھنگڑہ وغیرہ کو نکال کر حلقہ این اے سترہ میں شامل کردیاگیاہے۔اوران کی جگہ حلقہ پی کے پینتالیس کی آٹھ یونین کونسلیں سابقہ این اے اٹھارہ میں شامل کردی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان مسلم لیگ(ن) کی جانب سے سردار مہتاب احمد خان حلقہ این اے پندرہ یعنی سابق حلقہ این اے سترہ سے الیکشن میں حصہ لینگے۔جبکہ سابق ضلع ناظم سردار شیربہادر سردار مہتاب احمد خان کے مدمقابل الیکشن میں حصہ لینگے۔ جبکہ حلقہ این اے سولہ یعنی سابقہ این اے اٹھارہ سے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے ٹکٹ پر مرتضیٰ جاوید عباسی جبکہ ان کے مدمقابل پی ٹی آئی کے امیدوار کا فیصلہ ابھی نہیں کیاگیاہے۔ذرائع کے مطابق 2013ء کے عام انتخابات میں ڈپٹی سپیکرمرتضیٰ جاوید عباسی نے لوئرتناول سے پچیس ہزار ووٹ لئے تھے۔ حلقہ پی کے پینتالیس یعنی حلقہ پی کے چھتیس سے علی اصغرخان صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑیں گے۔ جبکہ سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی سردار محمد یعقوب حلقہ پی کے 37سے الیکشن میں حصہ لینے کیلئے پر تول رہے ہیں۔

نئی حلقہ بندیوں کا سب سے زیادہ نقصان سردار مہتاب اور مرتضیٰ جاوید عباسی کو پہنچاہے۔ سردار مہتاب جو کہ سابقہ حلقہ پی کے پینتالیس میں مضبوط امیدوار ہیں۔ 2013ء کے عام انتخابات میں سردار مہتاب نے اس حلقہ سے اکتیس ہزار ووٹ لئے تھے۔ جبکہ پی ٹی آئی کے ایم این اے ڈاکٹر اظہر جدون نے اس حلقہ سے چھبیس ہزار ووٹ لئے تھے۔ نئی حلقہ بندیوں کے بعد قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں جن علاقوں کو شامل کیاگیاہے۔ سردار مہتاب اور مرتضیٰ جاوید عباسی کا ان حلقوں میں کوئی بھی ڈائریکٹ گروپ یا جنبہ موجود نہیں ہے۔ سرکل لورہ میں بیرسٹرجاوید عباسی ، سردار مہتاب کی حمایت کریں گے جبکہ مرتضیٰ جاوید عباسی کی مخالفت کی جائے گی۔ جبکہ سرکل لورہ کے ووٹ روکنے کیلئے مرتضیٰ جاوید عباسی اپنے بھائی کو اس علاقے سے قومی اسمبلی الیکشن کا الیکشن لڑوائیں گے۔ جبکہ حویلیاں میں مسلم لیگی ایم پی اے سردار اورنگزیب نلوٹھہ بھی سردار مہتاب کی مدد کریں گے۔ لیکن سردار مہتاب کا ان علاقوں میں کوئی بھی گروپ یا جنبہ نہ ہونے کی وجہ سے ان کو الیکشن میں ناکامی کا سامنا کرناپڑسکتاہے۔

جبکہ دوسری جانب سردار شیربہادر کے پاس نہ صرف حلقہ پی کے پینتالیس بلکہ حویلیاں، ایبٹ آباد شہر میں بھی وسیع گروپ اورجنبہ موجود ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق سردار شیربہادر اور سردار مہتاب کے مابین کانٹے دار مقابلے کی توقع ہے۔


Comments

comments