حکمران اتحاد میں پھوٹ: پی کے اڑتیس میں پی ٹی آئی کے امیدوارپریشان۔


ایبٹ آباد: حکمران اتحاد میں پھوٹ۔ حلقہ پی کے اڑتیس کے متعدد امیدوارپی ٹی آئی کے ٹکٹ کی دوڑ سے آؤٹ۔ عمران خان نظریاتی جبکہ پرویز خٹک کاقلندرلودھی کی جانب جھکاؤ۔ اس ضمن میں ذرائع نے صحافیوں کو بتایاکہ آئندہ عام انتخابات کیلئے پی ٹی آئی کے کے حکمران اتحاد میں پھوٹ دکھائی دے رہی ہے۔ سابق ایم پی اے نثار صفدر خان جوکہ حلقہ پی کے اڑتیس سے الیکشن لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اسی حلقے سے صوبائی وزیر خوراک قلندرخان لودھی، اورسابق ٹکٹ ہولڈرسجاد اکبر بھی پی ٹی آئی کے ٹکٹ کیلئے سرگرم عمل ہیں۔ پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت میں بھی گروپ بندیاں چل رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق عمران خان کا جھکاؤ پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکنوں کی جانب زیادہ ہے اور وہ آئندہ عام انتخابات میں پی ٹی آئی کے نظریاتی نوجوانوں کو ٹکٹ دینے کے حامی ہیں۔ جبکہ دوسری جانب وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے گروپ کا جھکاؤ قلندرلودھی اور مشتاق غنی کی جانب زیادہ ہے۔ اور پرویز خٹک کی اس گروپ کو بھرپور سپورٹ بھی حاصل ہے۔ لیکن یہ سپورٹ بھی اٹھائیس مئی کے بعد ختم ہونے کی توقع ہے۔

ذرائع کے مطابق نثار صفدر خان کو پی ٹی آئی کے ٹکٹ سے محروم کرنے تیاریاں جاری ہیں۔اور خدشہ ہے کہ پرویز خٹک گروپ نثار صفدر خان اور سجاد اکبر خان کی بجائے قلندر لودھی کو آئندہ عام انتخابات کیلئے ٹکٹ دیگا۔ تاہم سجاداکبرخان اور نثار صفدر نے بھی ٹکٹ کے حصول کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگائیں گے۔ اگرعمران خان نے اپنے اعلان کے مطابق نثار صفدر خان اور سجاداکبر خان جیسے نوجوانوں میں سے کسی ایک کو ووٹ دیا تو اس کی کامیابی کے امکانات روشن ہونگے۔ ذرائع کے مطابق نئی حلقہ بندیوں کے بعد نثار صفدر خان حویلیاں سرکل میں وسیع اثرورسوخ رکھتے ہیں۔ تاہم تناول اور قلندرآباد سرکل میں ان کے پاس کوئی جنبہ اور سپورٹ موجود نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے عام انتخابات میں ان کو شدید دشواری کا سامنا کرناپڑسکتاہے۔ جبکہ دوسری جانب صوبائی وزیر خوراک قلندرخان لودھی نئی حلقہ بندیوں کے دوران اپنی آبائی یونین کونسل بانڈہ پیر خان سے بھی ہاتھ دھوچکے ہیں۔ اورحلقہ میں پندرہ سالوں سے کوئی میگاپروجیکٹ نہ لاسکنے کی وجہ سے تناول اور قلندرآباد سرکل میں ان کی اینٹی ہوا چلی ہوئی ہے۔ جس کی وجہ سے قلندرلودھی بھی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ اور انہوں نے اپنی آبائی یونین کونسل بانڈہ پیرخان اور سلہڈ کو واپس لانے کیلئے پشاور ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن بھی دائر کررکھی ہے۔

ذرائع کے مطابق سجاد اکبرخان جنہوں نے پچھلے آٹھ سال سے پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے حلقہ پی کے اڑتیس میں اپنی مہم جاری رکھی ہوئی ہے۔ حویلیاں اور سلطانپور سرکل میں بھی سجاداکبرخان نے نئی حلقہ بندیوں کے بعد کام شروع کردیاہے۔ سجاد اکبرخان کے تناول سرکل میں ہونے والے جلسے کامیاب ترین جلسے ہیں۔ اگر پی ٹی آئی کا ٹکٹ سجاد اکبر خان کو مل جاتاہے تو پھر ان کی کامیابی کے واضع امکانات موجود ہیں۔


Comments

comments