ہزارہ کے تمام سیاستدانوں کی شہداء ہزارہ کی برسی میں عدم شرکت۔


ایبٹ آباد: شہداء ہزارہ کی آٹھویں برسی میں اراکین اسمبلی کی عدم شرکت۔ مشرف کاخطاب ۔ایمان لانے والے غائب۔ ذرائع کے مطابق شہداء ہزارہ کی یادر میں منعقد کی جانیوالی آٹھویں برسی کی تقریب سکڑ کر چند سو افراد کے مجمع تک محدود ہوگئی۔ صوبہ کے نام پر شروع کی جانیوالی تحریک کی ابتداء سابق وفاقی وزیر گوہرایوب خان، یوسف ایوب خان، امان اللہ خان جدون، ڈاکٹراظہر جدون، مشتاق غنی اور دیگر نے کی تھی۔ اور ہزارہ کے اراکین اسمبلی نے اس تحریک کو چلانے کا سہرا بابا حیدرزمان کے سر پر رکھ دیا۔ تاہم بعد میں تحریک صوبہ ہزارہ اس وقت خرابی کی طرف گامزن ہوگئی۔ جب چند افراد نے بابا حیدر زمان کو یہ مشورہ دیاکہ وہ تحریک صوبہ ہزارہ کو رجسٹر کروالیں۔ اور ہزارہ کے تمام سیاستدانوں کو اس بات پر مجبور کریں کہ وہ تحریک صوبہ ہزارہ کے پلیٹ فارم سے الیکشن میں حصہ لیں اور اسمبلیوں میں پہنچ کر ہزارہ کاز کیلئے کام کریں۔ ہزارہ کے سیاستدان جو کہ مختلف سیاسی جماعتوں کیساتھ تعلق رکھتے تھے۔ ان سیاستدانوں نے بابا حیدرزمان کے اس فیصلے کی مخالفت کی اور انہیں تحریک صوبہ ہزارہ کو رجسٹرڈ کرانے سے منع کیا۔ لیکن باباحیدرزمان اوران کے رفقاء اپنے مؤقف پر ڈٹے رہے۔ جس کی وجہ سے تمام سیاستدانوں نے باباحیدرزمان سے منہ موڑ لیا۔ اورپھر کرتے کرتے یہ تحریک اب اپنے منطقی انجام کی طرف گامزن ہے۔ کیونکہ 2013ء کے عام انتخابات میں تحریک صوبہ ہزارہ کا کوئی بھی امیدوار کامیاب نہیں ہوسکا۔ ہزارہ کے سیاستدانوں کے علاوہ اکثریتی لوگ بھی تحریک صوبہ ہزارہ سے بیزار نظر آرہے ہیں۔

ABBOTTABAD: Apr12 – Local people sitting during 8th anniversary of People, killed during Movement started in Abbottabad after Change of name of Province. ONLINE PHOTO by Sultan Dogar

شہداء ہزارہ کی آٹھویں برسی جناح روڈ پر منعقد کی گئی۔ جس میں پنجاب سے بھی صوبوں کیلئے جدوجہد کرنے والے قائدین کے علاوہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی پارٹی کی خواتین نے بھی شرکت کی۔ شہداء ہزارہ کی برسی کی تقریب سے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے بھی خطاب کیا۔ ایک وقت تھاکہ ایبٹ آباد کے ایم پی اے مشتاق احمد غنی نے یہ بیان دیاتھاکہ ’’خدا کے بعد مشرف پر ایمان لایا ہوں‘‘۔ مشتاق غنی کا یہ بیان تمام اخبارات میں شہ سرخیوں کیساتھ شائع کیاگیاتھا۔ شہداء ہزارہ کی آٹھویں برسی میں ہزارہ کے کسی بھی ایم این اے، ایم پی اے یا سینیٹر نے شرکت تک نہیں کی۔ ایم این اے جمشید دستی ہر سال اس تقریب میں شرکت کرنے کیلئے خصوصی طور پر آتے ہیں۔ لیکن ہزارہ کا کوئی بھی سیاستدان اس تقریب میں شرکت نہیں کرتا۔جبکہ پاکستان مسلم لیگ(ن) نے شروع دن سے ہی تحریک صوبہ ہزارہ سے راہیں جدا کررکھی ہیں۔

BBOTTABAD: Apr12 – Leader Tehreek Hazara Province Baba Haider Zaman, MNA Jamsheed Dasti & others sitting on stage during 8th anniversary of People, killed during Movement started in Abbottabad after Change of name of Province. ONLINE PHOTO by Sultan Dogar

پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والی علی اصغرخان، جنہوں نے تحریک حقوق ہزارہ شروع کی تھی۔ چند سال تک تو علی اصغرخان بھی اپنے گھر میں شہداء ہزارہ کی دعائیہ تقریب منعقد کرتے رہے۔ لیکن آہستہ آہستہ انہوں نے بھی دیکھ لیا کہ صوبہ ہزارہ کے گھوڑے میں اب وہ جان نہیں رہی کہ جس پر سیاست چمکائی جاسکے۔ اس لئے انہوں نے بھی خاموشی اختیار کرلی ہے۔


Comments

comments