ایبٹ آباد میں شدت پسندی بڑھنے لگی۔ احتجاج کے نام پرفوارہ چوک گھنٹوں بلاک۔


ایبٹ آباد:آسیہ مسیح کی رہائی کیخلاف ایبٹ آباد میں تاریخی احتجاج۔ فوارہ چوک گھنٹوں بلاک۔ پولیس تماشادیکھتی رہی۔ ایبٹ آباد میں شدت پسندی بڑھنے لگی۔ حکومتی اداروں پر کڑی تنقید۔ ذرائع کے مطابق توہین رسالت اور توہین قرآن کے الزام میں سیشن جج اور ہائیکورٹ سے سزائے موت کی ملزمہ آسیہ مسیح کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے جرم ثابت نہ ہونے پر رہا کرنے کا حکم جاری کیا۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کیخلاف جہاں ملک بھر خصوصاً پنجاب میں جلاؤ گھیراؤ ، توڑپھوڑ کیساتھ ساتھ احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ وہیں نمازجمعہ کے بعد ایبٹ آباد میں بھی مختلف مذہبی جماعتوں نے دو الگ الگ احتجاجی مظاہرے کئے۔ تھانہ کینٹ کے سامنے منعقدہ احتجاجی پروگرام انتہائی پرامن تھا۔ جبکہ دوسرا احتجاج سنی تحریک کے کارکنوں نے فوارہ چوک میں کیا۔ جہاں کارکنوں نے شاہراہ ریشم کو گھنٹوں بلاک کئے رکھا۔ جس سے مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اور پولیس اہلکار موقع پر کھڑے تماشادیکھتے رہے۔ مری چوک میں بھی انتظامیہ کی جانب سے ٹریفک کو بلاک کیاگیا۔ اور یہ سلسلہ رات تک جاری رہا۔ فوارہ چوک میں مذہبی رہنماؤں نے حکومتی اداروں پر کڑی تنقید کی ۔ اور آسیہ مسیح کو فوری طور پر پھانسی دینے کا مطالبہ کیا۔

ABBOTTABAD: Nov02 – A local religious leader addressing angry protesters in Fawara Chowk, while blocking of KKH, in support of their demands. ONLINE PHOTO by Sultan Dogar
ABBOTTABAD: Nov02 – Workers of Religious Parties Blocking the KKH, during Protest in support of their demands. ONLINE PHOTO by Sultan Dogar
ABBOTTABAD: Nov02 – Workers of Religious Parties Protesting while Blocking KKH in Support of their demands. ONLINE PHOTO by Sultan Dogar

Comments

comments