پی ٹی ڈی سی نے سیاحت کے شعبے کو تباہ کیا: سینیٹرطلحہ محمود۔


اسلام آباد:سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود کی زیر صدارت پارلیمنٹ لاجز کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوا۔کمیٹی کے آج کے اجلاس میں پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کی کارکردگی،سالانہ بجٹ، ملک میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد کی تعداد، سیاحتی مقامات پر لوگوں کے رش اور پرائیوٹ سیکٹر کے ساتھ موازنہ ریٹ، گزشتہ پانچ برسوں میں تعمیر کیے گئے سیاحتی مقامات کے علاوہ ادارے کو درپیش مسائل اور ان کے حل کے امور کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ سپیشل سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن اور ایم ڈی پی ٹی ڈی سی نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ یہ ادارہ 1970 میں قائم کیا گیا۔کارپوریشن کا ایک بورڈ آف ڈائریکٹر ہے۔ وزیر چیئرمین بورڈ اور ایم ڈی پی ٹی ڈی سی سیکرٹری بورڈ ہے۔ ادارے کے بنیادی مقاصد ملک میں سیاحت کو فروغ دینا اور سیاحوں کو معیاری سہولیات فراہم کرنے کے علاوہ کمرشل مقاصد میں بہتری لانا ہے۔ پی ٹی ڈی سی کے ملک بھر میں 39 ہوٹل اور موٹلز ہیں۔ 14 ٹوریسٹ سینٹر ہیں۔پی ٹی ڈی سی کا سالانہ فنڈ 20 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے جبکہ سالانہ منافع 11 لاکھ ہے اور فی ہوٹل اڑھائی ہزار ماہانہ بنتا ہے۔

اراکین کمیٹی نے پی ٹی ڈی سی کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں سیاحت سے پورے پورے ملک کی معیشت چلتی ہے مگر ہمارے ملک میں سیاحت مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔ پاکستان میں سیاحت کے بے شمار مقامات اور فروغ کے بہت مواقع ہیں۔پی ٹی ڈی سی 1970میں قائم ہوا تاہم یہ اپنے مقاصد میں مکمل ناکام رہا۔کئی سیاح پاکستان آنا چاہتے ہیں انھیں کوئی معلومات نہیں ہوتیں۔سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ وقت بدل گیا ہے ادارے کو ای ٹورازم سسٹم متعارف کرانا چاہیے۔ سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ دنیا بھر میں سیاحت کا محکمہ وفاق کے پاس ہوتا ہے۔اس محکمے کے جو حالات ہیں وہ تباہی کی طرف جا رہے ہیں بہتر یہی ہے کہ معاملہ پارلیمنٹ میں لے جانا چاہیے اس کو ٹھیک کرنے کی اشد ضرورت ہے لاکھوں غیر ملکی پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں۔

سینیٹر ستارہ ایاز نے کہا کہ سیاحت آمدن کا آسان ترین طریقہ ہے۔ سینیٹر ہدایت اللہ نے کہا کہ وزارت قانون اور صوبوں کو بلا کر بہتری کیلئے حکمت عملی تیار کی جائے۔ جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ پی ٹی ڈی سی کی اربوں روپے کی پراپرٹی ہے اگر اس کوبہتر حکمت عملی کے تحت موثر استعمال میں لایاجائے تو اربوں روپے کی آمدن حاصل ہو سکتی ہے قائمہ کمیٹی سفارش کرتی ہے ملک میں سیاحت کے فروغ کیلئے سیاحت کے مقامات کے انفراسٹرکچر کو زیادہ سے زیادہ موثر بنایا جائے۔ مواصلات کے نظام کو بہتر کر کے سیاحوں کی آمد و رفت کو مزید بہتر کیا جا سکتا ہے۔ موسم کے مطابق سہولیات فراہم کی جائیں۔

سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ ملک کے وسیع تر مفاد اور سیاحت کے شعبے کی بہتری کیلئے وزیراعظم پاکستان، چاروں صوبائی وزراء اعلیٰ بشمول گلگت بلتستان و کشمیر کو خط لکھ کر صورتحال کی رپورٹ دی جائے گی اور قائمہ کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں صوبوں اور گلگت بلتستان و کشمیر سے بہتری کے حوالے سے متعلقہ حکام سے تجاویز و بریفنگ حاصل کی جائے۔ قائمہ کمیٹی نے وزارت کیبنٹ ڈویژن سے ادارے کے لیگل فریم ورک کی رپورٹ بھی طلب کر لی۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کسی بھی ملک کی ترقی میں سیاحت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے پاکستان میں سیاحت کے شعبے کو تباہ و برباد کر دیا گیا ہے۔ بہتری کیلئے ون ونڈو اپریشن کیا جائے اور مختلف سیاحتی مقامات کو ڈویلپ کر کے ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو ترغیب دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بے شمار ایسے مقامات بھی ہیں جہاں کیبل کار لگانے سے سیاحت کو فروغ دیا جا سکتا ہے یہ کام حکومت کا ہے اور یہ کس نے کرنا یہ کسی کو علم نہیں ہے۔

سینیٹرطلحہ محمودنے کہا کہ خانپور روڈ کو ا پ گریڈ کرنے کیلئے جاپان کی حکومت 2 ارب روپے دینے کو تیار تھی جو پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی ملکیت کے حوالے سے فیصلہ نہ ہونے پر فنڈز واپس چلے گئے۔ سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے تحت سیاحت صوبائی معاملہ بن چکا ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد پی ٹی ڈی سی کے مستقبل پر مسلسل سوالیہ نشان ہے۔ادارے کے 537 ملازمین ہیںیہ ادارہ آدھا تیتر اور آدھا بٹیر ہے بہتر یہی ہے کہ پالیسی لیول تک معاملات وفاق کے پاس رہیں اور باقی صوبوں کو دے دیں۔ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز نجمہ حمید،محمد طاہر بزنجو، روبینہ خالد، نصیب اللہ خان بازئی، سردار محمد اعظم خان موسیٰ خیل، ستارہ ایاز، ڈاکٹر اسد اشرف،محمد جاوید عباسی اور ہدایت اللہ کے علاوہ سپیشل سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن، ایڈیشنل سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن، جنرل منیجر پی ٹی ڈی سی و دیگر حکام نے شرکت کی۔


Comments

comments